مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 13 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 13

مضامین بشیر جلد سوم 13 خطرناک کانٹوں کی فصل تیار کر رکھی ہے۔حق یہ ہے کہ اختلاف رائے اپنی ذات میں ہرگز بُر انہیں ہوتا بلکہ دماغی روشنی اور آزادی فکر اور قومی ترقی کے لئے ایک مفید اور ضروری چیز ہے اسی لئے ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اِخْتِلَافُ أُمَّتِی رَحْمَةً یعنی میری امت کا اختلاف رحمت کا موجب ہے۔مگر ظاہر ہے کہ وہی اختلاف رحمت کا موجب ہو سکتا ہے جو نیک نیتی کے ساتھ صحیح تدبر کے نتیجہ میں قدرتی طور پر پیدا ہو۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال حکمت سے اس ارشاد میں اختلاف کے لفظ کے ساتھ ائة کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔اب ظاہر ہے کہ جہاں اختلاف کا لفظ بظاہر تشقت اور افتراق کو چاہتا ہے۔وہاں اُمہ کا لفظ اس سے بڑھ کر اتحاد اور اجتماع کا ذریعہ ہے پس ان دونوں لفظوں کو اکٹھا استعمال کرنے میں یقیناً یہی اشارہ کرنا مد نظر تھا کہ وہی اختلاف رحمت کا موجب ہو سکتا ہے جو رسول خدا کے بتائے ہوئے اصولوں اور آپ کی سکھائی ہوئی تعلیم کے اندر رہ کر کیا جائے۔یعنی اگر ایک طرف رائے کا اختلاف ایک دوسرے سے بظاہر جدا اور ممتاز کرنے والا نظر آئے۔تو دوسری طرف امت والے اصول مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ پیوست بھی رکھیں اور اس میں کیا شک ہے کہ ایسا اختلاف بڑی رحمت کا موجب ہوتا ہے۔کیونکہ اس میں ایک طرف تو ضمیر اور فکر کی آزادی قائم رہتی ہے۔جو ذہنی ترقی کا موجب ہے۔اور دوسری طرف اصل الاصول کے اتحاد کی وجہ سے تشئت اور افتراق کی صورت بھی پیدا نہیں ہوتی۔پس موجودہ حالات میں صحیح اور مخلصانہ مشورہ یہی ہے کہ اول تو پیش آمدہ حالات بہت نازک ہیں۔اگر اب بھی کوئی اتحاد واتفاق کی صورت پیدا ہو سکتی ہے تو اس کی کوشش ہونی چاہئے۔اور یا درکھنا چاہئے کہ کوئی اتحاد قربانی کی روح کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر یہ ناممکن ہوتو پھر اخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةً کا سنہری ارشاد ہر پارٹی کے سامنے رہنا ضروری ہے۔پس بے شک اختلاف کرو مگر ان اصولوں سے تجاوز نہ کرو۔جو خدا اور اس کے رسول نے مقرر کر رکھے ہیں۔اختلاف کرو مگر اسے افتراق وانشقاق کی بجائے رحمت کا ذریعہ بناؤ۔اختلاف کرو مگر یہ اختلاف بھائیوں والا اختلاف ہو نہ کہ دشمنوں والا۔اختلاف کرو مگر یہ اختلاف دماغ کا ہو نہ کہ دل کا۔بالآخر قرآن حکیم کی اس زرین ہدایت سے بہتر کوئی مشورہ نہیں ہو سکتا کہ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمُ (الانفال: 47) وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ