مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 11 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 11

مضامین بشیر جلد سوم 11 (TRAINING) حاصل ہوا کرتی ہے وہ انہیں حاصل نہیں ہوئی۔اس لئے اس تلخ حقیقت پر بھی پردہ نہیں ڈالا جا سکتا کہ پاکستان کے حصول کے بعد اس کے قیام اور استحکام کے لئے جس مخلصانہ توجہ اور جس والہانہ جد و جہد کی ضرورت تھی اس کا تسلی بخش نمونہ پیش نہیں کیا گیا۔بلکہ کچھ ایسا ہوا کہ جس طرح ایک آسان فتح کے بعد ایک غیر منظم فوج میدانِ جنگ کی لوٹ مار میں منہمک ہو جاتی ہے اور اپنی فتح کو دائمی بنانے کی فکر نہیں کرتی۔اسی طرح لیگ کا ایک حصہ بھی فتح کے انعاموں میں غرق ہو کر اپنی اصل ذمہ داری کو بھول گیا۔اس حالت کا طبعی نتیجہ تشئت اور افتراق تھا۔جو ایک بھیانک صورت میں ظاہر ہوا اور اس وقت پاکستان کی سہانی صبح کی فضا میں ایک کالی گھٹا بن کر چھایا ہوا ہے۔کاش ایسا نہ ہوتا اور کاش پاکستان کو اس کی عمر کے چند ابتدائی سال امن اور اتحاد اور استحکام کے میسر آجاتے۔یہ نظریہ کہ ہر جمہوری نظام میں بہر حال ایک حزب مخالف کا ہونا ضروری ہے صحیح تدبر اور صیح تخیل پر مبنی نہیں۔حزب مخالف کا وجود اختلاف رائے کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اختلاف رائے ہر حال میں ضروری نہیں ہوتا۔بلکہ صرف اس صورت میں ضروری ہوتا ہے کہ جب کوئی پارٹی غلط پالیسی اختیار کرے اور دوسرے لوگ اس کی غلطی کی اصلاح ضروری خیال کریں۔پس جب اختلاف رائے ہی ہر حال میں لازمی اور ضروری نہیں تو پھر یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ حزب مخالف کا وجود ہر حال میں ضروری ہے۔جمہوری نظام کے صرف یہ معنی ہیں کہ حکومت کا ہرا ہم کام پبلک کے نمائندوں کی رائے سے طے پائے۔اس کے لئے دو، یا دو سے زیادہ پارٹیوں کا کوئی سوال نہیں۔چنانچہ اگر کسی وقت پبلک کے نمائندے ایک ہی رائے پر قائم ہوں اور ایک ہی پالیسی کی تائید کریں۔تو ظاہر ہے کہ ایسے وقت میں جمہوریت کے باوجود حزب مخالف کا وجود مفقود ہوگا۔پس یہ کہنا ہرگز درست نہیں کہ جمہوریت اور حزب مخالف لازم و ملزوم ہیں۔ہاں اگر ملک کی رائے دو یا دو سے زیادہ حصوں میں بٹی ہوئی ہو۔تو پھر بے شک اکثریت اپنی پالیسی کے مطابق حکومت کرے گی اور اقلیت اس کی رائے کو درست کرنے اور ملک میں اپنی رائے کو غلبہ دینے کے لئے آئینی زور لگائے گی۔لیکن ضروری ہے کہ ہر اختلاف رائے طبعی اور فطری رنگ میں رو پذیر ہو نہ کہ مصنوعی اور غیر فطری طریق پر۔یعنی اختلاف کی خاطر سے اختلاف نہ کیا جائے۔بلکہ حقیقی اختلاف رائے کے نتیجہ میں اختلاف پیدا ہو۔اور اس کا اصول یہ ہے کہ شخصیتوں اور ذاتیات کے سوال سے بالا ہو کر ایک پارٹی اپنی پالیسی اور اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے۔اور پھر اگر دوسرے لوگوں کو اس پالیسی اور اس لائحہ عمل سے اہم اور اصولی اختلاف ہو اور یہ اختلاف محض وقتی یا جزوی باتوں تک محدود نہ ہو تو وہ اس کے مقابل پر اپنی پالیسی کا اعلان کر کے ملک