مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 206 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 206

مضامین بشیر جلد سوم 206 ظاہر بین انسان کے تصور میں آسکتی تھی ؟ پس اے عزیز و! تم احمدیت کی آخری ترقی اور غلبہ کے متعلق کیوں شبہ کرتے ہو؟ تمہیں تو خدا کا شکر کرنا چاہئے کہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس نام کے طفیل ( " جس پہ میر اسب مدار) خدا تمہیں مسیح ناصری کی قوم کے مقابلہ پر بہت جلد جلد ترقی دے رہا ہے۔چنانچہ ابھی احمدیت کے قیام پر ستر سال نہیں گزرے کہ اس الہی جماعت کی شاخیں دنیا کے بیشتر ملکوں میں پھیل چکی ہیں۔اور انگلستان اور جرمنی اور ہالینڈ اور سوئٹزر لینڈ اور سپین اور ریاستہائے متحدہ امریکہ اور نائیجیریا اور گولڈ کوسٹ اور مشرقی افریقہ اور ماریشس اور اسرائیل اور لبنان اور ہندوستان اور سیلون اور ملایا اور جاوا اور سماٹرا اور بور نیو وغیرہ وغیرہ میں احمدیت کے مناد اسلام کی تبلیغ اور اس کی نشاۃ ثانیہ کے استحکام کے لئے دن رات کام میں لگے ہوئے ہیں۔اور ان اسلامی مشنوں کے نفوذ سے تثلیث اور شرک کی طاقتیں خائف ہورہی ہیں۔سوچو اور بتاؤ کہ کیا یہ ایک ایسی کو نیل ہے جس کے درخت بننے کے متعلق شبہ کیا جا سکے؟ دور نہ جاؤ۔خود ہمارے ملک کے اندر ہی جو بھاری فساد گزشتہ سال بر پا ہوا ہے۔جسے ملک کی فرض شناس حکومت نے مضبوطی کے ساتھ دبا دیا۔اور ملک کے فہمیدہ طبقہ نے بھی اس کی مذمت کی۔کیا وہ اس بات کی علامت نہیں تھا کہ وہ لوگ جو اپنی کوتاہ بینی سے اسلام کے اس مضبوط ستون اور تبلیغ کے لحاظ سے گویا بازوئے شمشیر زن کو مٹانا چاہتے ہیں۔وہ بھی اب یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ یہ پودا بہت جلد بڑھ کر درخت بنے کی عمر کو پہنچ رہا ہے۔وَالْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے متعلق حضرت مسیح موعود کی بعض پیشگوئیاں بالآخر اپنے اس وسیع مضمون کو جسے میں نے طوالت کے ڈر سے نیز اپنی علالت کی مجبوری کے ماتحت نہایت اختصار اور اجمال کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کے بعض اقوال اور تحریرات پر ختم کرتا ہوں۔تا اگر میری نحیف آواز بعض ڈگمگاتے ہوئے دلوں میں تسلی پیدا کرنے کا موجب نہ بنی ہو تو حضرت مسیح موعود کے زبر دست مکاشفات ہی کمزور دلوں کی ڈھارس کا باعث بن جائیں۔سب سے پہلے میں اس اعلان کو لیتا ہوں جو آپ نے کسی الہام کی بناء پر نہیں بلکہ خود اپنی خورد بین روحانی آنکھ کے ذریعہ دور کی فضاء میں پیدا ہوتے ہوئے تغیر کو محسوس کر کے فرمایا۔فرماتے ہیں اور کس لطف سے فرماتے ہیں۔آسماں پر دعوت حق کے لئے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اتار