مضامین بشیر (جلد 3) — Page 153
مضامین بشیر جلد سوم 153 تربیت کا آغاز ہونا چاہئے۔ہر احمدی بچہ نماز کا پابند اور اس کا شائق ہو۔اور ہر احمدی بچہ اپنے آپ کو ایک خدائی جماعت کا فرد سمجھتے ہوئے اس کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کی تڑپ رکھے۔یہ وہ دوز بر دست کھونٹے ہیں جن کے ساتھ بندھ کر ہر بچہ تمام قسم کے خطرات سے محفوظ ہو جاتا ہے۔اس کی ایک تار خدا سے ملتی ہے جو ایک نہ ٹوٹنے والا دائمی سہارا ہے۔اور اس کی دوسری تار جماعت سے ملتی ہے جو اس کے لئے ایک آہنی قلعہ سے کم نہیں۔پس اے احمدی ماؤں ! اے اسلام کی بیٹیو! آج سے اس بات کا عہد کرو کہ تم نے اپنے بچوں میں یہ دو نیکیاں بہر حال پیدا کرنی ہیں۔تم نے انہیں نماز اور دعاؤں کا پابند بنانا ہے اور ان میں ایک خدائی جماعت کا فرد ہونے اور اس کے لئے وقت اور مال کی قربانی کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔دیکھو ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ضمانت دی تھی مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اس کی قدر نہیں کی۔آپ نے فرمایا تھا کہ جو مسلمان مجھے اپنے دو عضووں کی ذمہ داری دے (وہ اک زباں ہے عضو نہانی ہے دوسرا ) تو میں ایسے مسلمان کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔مگر یہاں تمہارے آقا کا بھی آقاد نیا کا واحد خالق و مالک خدا جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیاں ہیں ایک ابدی ضمانت دیتا ہے اسے تو قبول کرو۔فرماتا ہے۔يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره:4) أولئِكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ أُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔(البقره: 6) یعنی جو لوگ نماز کو قائم کرتے اور ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں وہی ہماری طرف سے ہدایت یافتہ ہیں۔اور یقیناً وہی بالآخر بامراد ہوں گے۔اے احمدی ماؤں ! یہ وہ تعویذ ہے جو تمہارے بچوں کی دائمی حفاظت کے لئے زمین و آسمان کا خدا پیش کرتا ہے۔اسے شوق کے ہاتھوں سے قبول کرو کہ اس سے زیادہ پختہ اور اس سے زیادہ ستا سودا تمہیں کہیں نہیں ملے گا۔یہ تعویذ کیا ہے؟ نماز اور خدا کے راستہ میں خرچ کرنا۔تین سب سے بڑے گناہ دین کی بنیاد کو اوپر کی تعلیم کے ذریعہ پختہ کرنے کے بعد آنحضرت صلے اللہ علیہ والہ وسلم ایک ایسی ہدایت فرماتے ہیں جس کی تہہ میں گو یا اصلاح نفس کے تمام فلسفہ کی کنجی ہے۔فرماتے ہیں :۔أَلَا أُنَبتَكُم بِأكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلَاثًا - قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ - قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ وَ