مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 872 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 872

مضامین بشیر ۸۷۲ (۴) پھر بعض جگہ جن کے لفظ سے تاریکی میں رہنے والے جانور مراد ہوں گے جیسا کہ مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کو شام کے وقت خصوصیت سے ڈھانک کر رکھا کرو تا کہ ان کے اندر جن رستہ نہ پاسکیں ( مشکوۃ ) اس جگہ جن سے پتنگے اور بیماریوں کے جراثیم وغیرہ مراد ہیں اور ہے (۵) پھر بعض جگہ جن سے مراد کیڑے مکوڑے بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ ہڈی سے استنجا نہ کرو کیونکہ اس میں جنوں کی خوراک ( مشکوۃ ) اور ظاہر ہے کہ اس سے چیونٹیاں اور دیمک وغیرہ کی قسم کے کیڑے مراد ہیں جو ہڈیوں کے ساتھ لگے ہوئے گوشت اور ان کے اندر کے گودے کو خوراک بناتے ہیں۔الغرض جن کے لفظ سے بہت سی چیزیں مراد ہو سکتی ہیں لیکن بہر حال یہ بالکل درست نہیں کہ دنیا میں کوئی ایسے جن بھی پائے جاتے ہیں جو یا تو لوگوں کے لئے خود کھلونا بنتے ہیں یا لوگوں کو قابو میں لا کر انہیں اپنا کھلونا بناتے ہیں یا بعض انسانوں کے دوست بن کر انہیں اچھی اچھی چیز میں لا کر دیتے ہیں اور بعض کے دشمن بن کر تنگ کرتے ہیں یا بعض لوگوں کے سر پر سوار ہو کر جنون اور بیماری میں مبتلا کر دیتے ہیں اور بعض کے لئے صحت اور خوشحالی کا رستہ کھول دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ سب کمزور دماغ لوگوں کے تو ہمات ہیں جن کی اسلام میں کوئی سند نہیں ملتی اور سچے مسلمانوں کو اس قسم کے تو ہمات سے پر ہیز کرنا چاہئیے۔ہاں لغوی معنے کے لحاظ سے (نہ کہ اصطلاحی طور پر ) فرشتے بھی مخفی مخلوق ہونے کی وجہ سے جن کہلا سکتے ہیں اور یہ بات اسلامی تعلیم سے ثابت ہے کہ فرشتے مومنوں کے علم میں اضافہ کرنے اور ان کی قوت عملیہ کو ترقی دینے اور انہیں کافروں کے مقابلہ پر غالب کرنے میں بڑا ہاتھ رکھتے ہیں جیسا کہ بدر کے میدان میں ہوا۔جب کہ تین سو تیرہ بے سرو سامان مسلمانوں نے ایک ہزار ساز و سامان سے آراستہ جنگجو کفار کو خدائی حکم کے ماتحت دیکھتے دیکھتے خاک میں ملا دیا تھا۔( صحیح بخاری ) پس اگر سوال کرنے والے دوست کو مخفی روحوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا شوق ہے تو وہ کھلونا بننے والے یا کھلونا بنانے والے جنوں کا خیال چھوڑ دیں اور فرشتوں کی دوستی کی طرف توجہ دیں جن کا تعلق خدا کے فضل سے انسان کی کا یا پلٹ کر رکھ دیتا ہے۔