مضامین بشیر (جلد 2) — Page 870
مضامین بشیر ۸۷۰ ایک دوست کے دوسوالوں کا جواب (۱) جنات کا وجود ایک صاحب جو جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں رکھتے۔اپنا نام ظاہر کرنے کے بغیر خط کے ذریعہ دریافت کرتے ہیں کہ جنات کے وجود کے متعلق اسلام کی کیا تعلیم ہے؟ یعنی جن کس مخلوق کا نام ہے؟ اور کیا جیسا کہ عام لوگوں کا خیال ہے وہ انسانوں پر اثر ڈال کر انہیں اپنا گرویدہ یا دیوانہ بنا سکتے ہیں یا انسانوں کے ساتھ چمٹ کر انہیں اپنے قابو میں لانے کا اختیار رکھتے ہیں یا خود ان کے قابو میں آکران کی خدمت سرانجام دے سکتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ اس سوال کے جواب میں مختصر طور پر یاد رکھنا چاہئے کہ بے شک قرآن شریف اور حدیث میں جن کا لفظ آتا ہے اور قرآن شریف میں ۲۶ جگہ اور حدیث میں اس سے بھی زیادہ کثرت کے ساتھ یہ لفظ استعمال ہوا ہے لیکن جن سے مراد ہرگز وہ چیز نہیں جو آج کل عام لوگوں کے تخیل میں پائی جاتی ہے۔دراصل عربی زبان میں جن کے معنے مخفی رہنے والی چیز کے ہیں۔خواہ وہ اپنی تقویم یعنی بناوٹ کی وجہ سے مخفی ہو یا کہ صرف عادات کے طور پر مخفی ہو اور یہ لفظ عربی کے مختلف صیغوں اور مشتقات میں منتقل ہو کر بہت سے معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے مگر بہر حال ان سب معنوں میں مخفی ہونے یا پس پردہ رہنے کا مفہوم مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔چنانچہ عربی میں فعل کی صورت میں جن کے معنے سایہ کرنے اور اندھیرے کا پردہ ڈالنے کے ہیں۔مثلاً قرآن شریف فرماتا ہے کہ: فَلَمَّا جَنَ عَلَيْهِ الَّيْلُ د یعنی جب رات نے ابراہیم پر اندھیرے کا پردہ ڈالا۔اس طرح جنین اس بچے کو کہتے ہیں جو ابھی ماں کے پیٹ میں مخفی ہوتا ہے اور جنون اس مرض کو کہتے ہیں جو دماغ کو ڈھانک کر مختل کر دیتا ہے اور جنان دل کو کہتے ہیں جو سینے کے اندر مستور رہتا ہے اور جنة اس گھنے باغ کو کہتے ہیں جس کے درخت زمین کو اپنے سایہ میں ڈھانکے رکھتے ہیں اور مجنۃ اس ڈھال کو کہتے ہیں جس کے پیچھے لڑنے والا سپاہی اوٹ لے کر اپنا بچاؤ کرتا ہے اور جان اس چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں جو زمین کے سوراخوں میں چھپ کر رہتا ہے اور جنسن اس قبر کو کہتے ہیں جو