مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 827 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 827

۸۲۷ مضامین بشیر قانون جاری ہو گیا ہے۔لیکن سنا جاتا ہے کہ اس میں بھی عملاً رخنے پیدا کئے جار ہے ہیں اور بہر حال اس کا نیک نتیجہ کچھ وقت لے کر ہی ظاہر ہو گا۔ورثہ کے علاوہ اسلام نے ہر شخص کو ایک تہائی جائیداد کی وصیت کا بھی حق دیا ہے جس کی وجہ سے نیک جذبات والے لوگ اپنے ترکہ کو مزید مستحقین میں تقسیم کرنے کا موقع پا سکتے ہیں اور ایسی وصیت میں ورثاء کا حق تسلیم نہیں کیا گیا۔بہر حال اسلام کا قانون ورثہ بھی دولت کو سمونے کا ایک بھاری ذریعہ ہے۔بے شک اس سے امیروں کی دولت کا حصہ غریبوں کو تو نہیں پہنچتا۔(سوائے اس کے کہ کوئی وارث ہی غریب ہو یا وصیت کے طریق پر غریبوں کو فائدہ پہنچایا جائے لیکن غریبوں اور امیروں کی دولت کے درمیان نسبتی فرق میں ضرور کمی پیدا ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ بے اطمینانی پیدا کرنے میں زیادہ دخل نسبتی فرق کا ہی ہوا کرتا ہے۔( دوم ) دولت کے سمونے کا دوسرا ذریعہ زکوۃ کا نظام ہے جو حالات کے اختلاف سے اڑھائی فیصدی سے لے کر بیس فی صدی تک کی شرح کے حساب سے امیروں کی دولت پر لگائی جاتی ہے۔اور اس جبری ٹیکس میں جس کا وصول کرنا حکومت کا کام ہے پہلا اور مقدم حق غریبوں کی پا بحالی کا مقرر کیا گیا ہے۔حتی کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم زکوۃ کے متعلق فرماتے ہیں کہ :- ۲۵ تؤخذ من اغنياء هم و ترد الى فقرائهم دو یعنی زکوۃ وہ ٹیکس ہے۔جو امیروں کی دولت سے کاٹ کر غریبوں کی طرف 66 لوٹانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔اس تعلق میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ زکوۃ کا ٹیکس صرف منافع پر ہی نہیں لگتا بلکہ سرمایہ پر بھی لگتا ہے اور اس لئے اس کے ذریعہ دولت کو سمونے کا ایک موثر ذریعہ قائم کر دیا گیا ہے۔اور یہ جو بیس فی صدی کی بھاری شرح مقرر کی گئی ہے یہ ان اموال پر ہے جو بند ذخیروں کی صورت میں رکھے جاتے ہیں اور اس بھاری شرح میں حکمت یہ ہے کہ یا تو ان اموال کو صنعت و تجارت وغیرہ میں لگا کر بالواسطہ طور پر غریبوں کو فائدہ پہنچاؤ ورنہ اس مال کے جلد ختم ہو جانے کے لئے تیار رہو۔زکوۃ کے مصرف میں ایک بات یہ بھی داخل کی گئی ہے کہ اس میں سے ان لوگوں کی امداد کی جائے جو کوئی ہنر تو رکھتے ہیں مگر اس ہنر کو استعمال کرنے کے لئے مناسب ذرائع نہیں رکھتے۔اس طرح اس انتظام کے ذریعہ چھوٹے چھوٹے کارخانوں اور کاٹیج انڈسٹری کی ترقی کا رستہ بھی کھولا گیا ہے۔پھر زکوۃ کے مخصوص جبری ٹیکس کے علاوہ وہ عام تحریک جو غریبوں کی امداد کے لئے صدقات وغیرہ کی صورت میں اسلام نے جاری کی ہے وہ مزید برآں ہے اور اس تحریک کی شدت کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ رمضان کے متعلق جو غریبوں کی خاص ضرورت کا زمانہ ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ