مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 806 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 806

مضامین بشیر ۸۰۶ میں ( مجھے شاعر صاحبان معاف فرمائیں ) اپنے سب تخیل کو کبھی کسی وادی میں اور کبھی کسی وادی میں بھگاتے پھرتے ہیں۔“ اب حضرت امام جماعت احمدیہ کی یہ کتاب کوئی انسائیکلو پیڈیا تو تھی نہیں کہ جس میں ہر موضوع کو داخل کر دیا جاتا بلکہ چند معین سوالوں کا ( جو اس زمانہ میں بعض حضرات کی طرف سے اٹھائے گئے ہیں ) جواب دینا اصل مقصد تھا اور یہ سوالات وہی ہیں جن کا خلاصہ اس نوٹ کے شروع میں درج کر دیا گیا ہے اور وہ خالصتاً زمین کی ملکیت کے حق سے تعلق رکھتے ہیں اور خدا کے فضل سے یہ کتاب ان مخصوص سوالوں کا کافی وشافی جواب پیش کرتی ہے۔باقی رہا یہ امر کہ اگر رقبہ مملوکہ کی حد بندی نہ ہونے کی وجہ سے بعض خرابیاں پیدا ہوں تو ان کا کیا علاج ہے تو یہ ایک جدا گانہ سوال ہے جس کا اس کتاب کے موضوع کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن خدا کے فضل سے ہمارے دوسرے لٹریچر میں اس سوال پر بھی کافی بحث آچکی ہے اور علم دوست طبقہ اس لٹریچر کے مطالعہ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔مثلاً حضرت امام جماعت احمد یہ ہی کی ایک اور تصنیف ”اسلام کا اقتصادی نظام شائع ہو چکی ہے۔جس میں اس سوال کے متعلق بہت سیر کن بحث کی گئی ہے کہ اسلام کس طرح جائداد کے انفرادی حق کو تسلیم کرنے کے باوجود غربت کو دور کرنے اور کمزور لوگوں کو اوپر اٹھانے اور ملکی دولت کو مناسب صورت میں سمونے کا نظام پیش کرتا ہے۔اسی طرح ہماری بعض اور تصنیفات میں بھی یہ سوال کافی زیر بحث آچکا ہے۔پس یہ کہنا کہ اسی کتاب میں سارے دور ونزدیک کے سوالوں کو کیوں نہیں لیا گیا کوئی معقول جرح نہیں کہلا سکتی خصوصاً جبکہ ( غالباً فاروقی صاحب تسلیم کریں گے ) خود اس کتاب کے ایک حصہ میں بھی مختصر طور پر اس سوال پر کسی قدر روشنی ڈالی گئی ہے مگر پوری تفصیل کا نہ تو یہ موقعہ تھا اور نہ کتاب کا محدود موضوع اس کی اجازت دیتا تھا۔اب رہا دوسرا سوال یعنی فاروقی صاحب کی جرح کا یہ حصہ کہ اس کتاب میں اس دور کے حوالے دیئے گئے ہیں جب کہ تمدن اور معاشرت ابھی ابتدائی حالت میں تھے لیکن اب دنیا کے حالات بہت بدل چکے ہیں اور نئے نظریوں کی ضرورت ہے۔سو اس کے متعلق میں بڑی محبت کے ساتھ عرض کروں گا کہ غالباً فاروقی صاحب نے یہ جرح کرتے ہوئے اس بات کو نظر انداز کر دیا ہے کہ اسلام اس بات کا مدعی ہے کہ قرآنی شریعت سارے زمانوں کے لئے قیامت تک کے واسطے آئی ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ اس بات کا بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اسلام کا خدا ( اور وہی ساری دنیا کا خدا ہے جس کے بغیر کوئی خدا نہیں ) ایک عالم الغیب ہستی ہے جس پر کوئی مکانی یا زمانی غیب مخفی نہیں ہے وہ قرآن مجید کو نازل کرتے ہوئے صرف عربوں کے حالات اور صرف ساتویں صدی عیسوی کے حالات سے ہی