مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 673 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 673

مضامین بشیر چلائے۔اس کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے رفقاء میں اعلان فرمایا کہ میں یہاں قبلہ رخ ہو کر مسنون دعا کرتا ہوں۔اور ہمارے دوست بھی اس دعا کو بلند آواز سے دہراتے جائیں۔اور مستورات بھی اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے یہ دعا دہرائیں۔اس کے بعد حضور نے ہاتھ اونچے کر کے یہ دعا کرنی شروع کی۔رَبِّ ادْخِلُنِى مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَلْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطنًا نَصِيرًا وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا دو یعنی اے میرے رب مجھے اس بستی میں اپنی بہترین برکتوں کے ساتھ داخل کر اور پھر اے میرے آقا مجھے اس بستی سے نکال کر اپنی اصل قیام گاہ کی طرف اپنی بہترین برکتوں کے ساتھ لے جا اور اے مومنو تم خدا کی برکتوں کو دیکھ کر اس آواز کو بلند کرو کہ حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا۔اور باطل کے لئے تو بھا گنا ہی مقدر ہو چکا ہے۔“ یہ دعا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے چناب کا پل گزر کر اور قبلہ رخ ہو کر ربوہ کی زمین کے کنارے پر کھڑے ہو کر کئی دفعہ نہائت سوز اور رقت کے ساتھ دہرائی اور اس کے بعد موٹروں میں بیٹھ کر آگے روانہ ہوئے۔کیونکہ ربوہ کی موجودہ بستی چناب کے پل سے قریبا دو میل آگے ہے اس عرصہ میں بھی سب دوست اوپر کی دعا کو مسلسل دہراتے چلے گئے۔جب ربوہ کی بستی کے سامنے موٹرمیں پہنچیں تو اس وقت ربوہ اور اس کے گرد و نواح کے سینکڑوں دوست ایک شامیانہ کے نیچے حضرت صاحب کے استقبال کے لئے جمع تھے۔اس وقت جبکہ عین ڈیڑھ بجے کا وقت تھا سب سے آگے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی موٹر تھی اس کے بعد ہماری موٹر تھی اس کے بعد غالباً سیدہ بشری بیگم صاحبہ مہر آپا کی موٹر تھی۔اس کے بعد حضرت صاحب کی صاحبزادیوں کی موٹر تھی۔اور اس کے بعد غالباً محترمی شیخ بشیر احمد صاحب کی موٹر تھی۔جب حضرت صاحب اپنی موٹر سے اترے تو ربوہ کے چند نما ئندہ دوست جن میں محترمی مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے ناظر اعلیٰ اور محترمی سید ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامه و امیر مقامی اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور عزیز ڈاکٹر مرزا منور احمد سلمہ اللہ اور بعض ناظر صاحبان اور تحریک جدید کے وکلاء صاحبان اور محترمی مولوی ابوالعطاء صاحب وغیرہ شامل تھے ، آگے آئے۔اور حضور کے ساتھ مصافحہ کر کے حضور کو اس شامیانہ کی طرف لے گئے جو چند گز مغرب کی طرف نصب شدہ تھا اور جس میں دوسرے سب دوست انتظار کر رہے تھے۔