مضامین بشیر (جلد 2) — Page 644
مضامین بشیر ۶۴۴ لیکن جب تک ہم مردوں کے خیالات میں اصلاح پیدا نہیں کر سکتے اُس وقت تک ہم مجبور ہیں کہ اس قسم کی مظلوم عورتوں کی امداد کا کچھ نہ کچھ انتظام سوچیں اور میرے خیال میں علاوہ اس استثنائی انتظام کے جو سُنا جاتا ہے کہ حکومت کے بعض افسروں نے قولاً اور قانو نا تو نہیں مگر عملاً اختیار کیا تھا اور جسے موجودہ حالات میں چنداں نا واجب نہیں سمجھا جا سکتا۔میرے خیال میں ذیل کی احتیاطیں اختیار کرنے سے بھی کسی حد تک اصلاح کی اُمید ہوسکتی ہے۔ا۔یہ کہ سوسائٹی کا سمجھدار طبقہ اعتراض کرنے والے لوگوں کو سمجھائے اور آنحضرت عیہ کی سنت بتا کر اس بات کی نصیحت کرے کہ ایسی مجبور مقہور عورت رحم اور ستاری کی مستحق ہے نہ کہ طعن اور اعتراض کی۔۲۔یہ کہ ایسی عورت کے متعلق اگر ممکن ہو تو اس کا نام وغیرہ مناسب صورت میں بدل دیا جائے ا تا کہ سابقہ نام کے معروف ہونے کی وجہ سے بدنامی کا امکان کم ہو جائے۔۔یہ کہ جہاں تک ممکن ہو ایسی عورت کو کم از کم ایک عرصہ کے لئے ان لوگوں سے دور رکھا جائے جو اس کے گذشتہ وطن اور اس کے اغوا وغیرہ کے حالات سے واقف ہیں۔۔یہ کہ اگر ممکن ہو اور عورت کو اُس پر اصرار ہو تو ایسی عورت سے اس کے بچہ کو لے کر کسی قومی یا ملکی ادارے کے سپر د کر دیا جائے۔جہاں بچہ کی والدہ کا نام اور اُس کے وطن کا پتہ درج نہ کیا جائے بلکہ کوئی نیا نام رکھ کر اس کی طرف منسوب کر دیا جائے اور یہ نوٹ کر دیا جائے کہ یہ بچہ لاوارث حالت میں پہنچا ہے۔۵۔یہ کہ اگر اس عورت کا خاوند مر چکا ہو یا اسے رکھنے کے لئے تیار نہ ہو تو جہاں تک ممکن ہو کسی شریف آدمی کو آمادہ کر کے اس کے ساتھ ایسی عورت کا نکاح کرا دیا جائے۔اوپر کی باتیں میں نے صرف موجودہ سوسائٹی کے خیالات اور سماجی مجبوری کے ماتحت لکھی ہیں ور نہ حق وہی ہے جو ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور جسے یورپ اور امریکہ کی بعض عیسائی اقوام تو عملاً اختیار کر چکی ہیں۔مگر افسوس ہے کہ ابھی تک اس کے لئے مسلمانوں کا ایک حصہ تیار نہیں۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين - ( مطبوعه الفضل ۲۷ اگست ۱۹۴۹ء)