مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 592 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 592

مضامین بشیر ۵۹۲ لیکن مقامی افسروں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ چونکہ ان مسجدوں کے ساتھ کوئی ایسی جائیدا د ملحق نہیں ہے جو آمدن دے رہی ہو اس لئے ان کی مرمت کا انتظام نہیں ہوسکتا۔ہمارے دوستوں کی طرف سے اس کا یہ جواب دیا جا رہا ہے کہ اول تو مساجد جو مقدس مذہبی عبادت گاہیں ہیں عام قانون سے مستقی ہونی چاہئیں کیونکہ ایسی عمارتوں کے متعلق گورنمنٹ کی خاص ذمہ داری ہے۔دوسرے قادیان کی سب مساجد صدرانجمن احمد یہ قادیان کے نام پر ہیں اور اس وقت انجمن کی لاکھوں روپے کی جائیداد گورنمنٹ کے قبضہ میں ہے۔پس اس وجہ سے بھی مساجد کی مرمت ضروری ہے۔۵۔مورخہ اا ر جولائی ۱۹۴۹ء کو تین احمدی جن کا تعلق احمد یہ شفا خانہ قادیان کے ساتھ ہے محلہ دارالرحمت میں ایک غیر مسلم کو دوائی دینے کے لئے ڈاکٹر صاحب کی ہدایت کے ماتحت گئے جب وہ واپس آ رہے تھے تو ۹ بجے شام کے قریب مسجد شیخاں کی گلی کے پاس سے گذرتے ہوئے ان پر پیچھے سے چھ سات غیر مسلموں نے لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔ایک دوست کو معمولی سی ضرب بھی آئی مگر وہ جلدی سے واپس آگئے اور خدا کے فضل سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔اس واقعہ کی رپورٹ پولیس کی چوکی میں کر دی گئی ہے۔۶۔مولوی برکات احمد صاحب ناظر امور عامه قادیان جو مولانا غلام رسول صاحب را جیکی مبلغ سلسلہ کے فرزند ہیں لکھتے ہیں کہ کچھ عرصہ سے ان کی شنوائی پر اثر پڑ رہا ہے اور کچھ فاصلہ کی آواز اچھی طرح سنائی نہیں دیتی حالانکہ مولوی صاحب عمر کے لحاظ سے ابھی گو یا جوان ہیں۔دوست ان کے لئے دعا کریں اور اگر کسی ڈاکٹر کو اس بیماری کا کوئی مؤثر نسخہ معلوم ہو تو مطلع فرما ئیں۔ے۔قادیان کے دوستوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ اور بہشتی مقبرہ کے باغ اور بعض دوسرے باغوں کے کچھ آم قادیان سے بھجوائے تھے جو یہاں لاہور میں عزیزوں اور دوستوں میں تقسیم کر دیئے گئے۔(مطبوعہ الفضل ۲۱ ؍ جولائی ۱۹۴۹ء)