مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 572 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 572

مضامین بشیر ۵۷۲ معانقہ کر کے آپ کے اندر خدائی نور کو داخل کرنے کی کوشش کی تھی۔۳۔تا کہ یہ قرآنی دور آپ کی امت کے لئے بھی ایک سبق ہو اور وہ اپنے رمضان کے مہینوں میں اسی رنگ میں قرآن کا دور کر کے زیادہ سے زیادہ برکت اور زیادہ سے زیادہ عرفان حاصل کر سکیں۔لیکن اوپر والی حدیث کے ساتھ ہی روایتوں میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ جب قرآن شریف کا نزول مکمل ہو گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا آخری رمضان آیا تو اس رمضان میں جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر قرآن کریم کے دو دور مکمل کئے اور گذشتہ سالوں کی طرح صرف ایک دور پر اکتفا نہیں کی۔اس میں مسلمانوں کے لئے یہ اشارہ ہے کہ چونکہ ان کے لئے بھی قرآن کریم اپنی آخری مکمل صورت اختیار کر چکا ہے اس لئے اب انہیں بھی ہر رمضان میں قرآن کریم کے دو دور مکمل کرنے چاہئیں۔یہ دو دور ہرگز کوئی مشکل کام نہیں بلکہ اگر انسان نصف گھنٹہ سے لے کر ایک گھنٹہ روزانہ تک ( کیونکہ مختلف لوگوں کی رفتار تلاوت مختلف ہوتی ہے) خرچ کرنے کے لئے تیار ہو اور یقیناً یہ کوئی زیادہ وقت نہیں تو ایک مہینہ میں دو دور بڑی آسانی کے ساتھ ختم کئے جا سکتے ہیں۔اس دہرے دور میں یہ تصوف کا نکتہ مد نظر ہے کہ تا انسان اپنی اس خواہش کا عملی ثبوت پیش کرے کہ وہ قرآن شریف کو صرف ایک دفعہ پڑھنے پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ اس کی بار بار تلاوت اور تکرار کی خواہش رکھے گا۔دراصل جو نیک کام بھی ایک دفعہ سے زیادہ دفعہ کیا جائے گا اس میں یہ نکتہ مضمر ہوگا کہ میں اس کام کو بار بار کروں گا اور اس کام کے کرنے میں تھکنے کا نام نہیں لوں گا۔اسی واسطے عربی میں یہ محاورہ ہے لعود احمد یعنی تکرار ایک قابل تعریف صفت ہے اور اس میں ہر چیز کا حسن دوبالا ہو کر ترقی کر جاتا ہے۔پس میری پہلی نصیحت دوستوں کی خدمت میں یہ ہے کہ وہ رمضان میں قرآن کریم کے ایک دور کی بجائے دو دور مکمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اس طرح ایک تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور جبریل علیہ السلام کی مبارک سنت پوری ہوتی ہے اور دوسرے اس میں اس عزم کا اظہار بھی پایا جاتا ہے کہ قرآن کریم وہ کتاب نہیں کہ جسے ہم ایک دفعہ پڑھ کر بھلا دیں بلکہ ہم اسے پھر پڑھیں گے اور پھر پڑھیں گے اور پھر پڑھیں گے اور پڑھتے ہی چلے جائیں گے۔اس تعلق میں دوسری بات میں دوستوں سے قرآن کریم کی تلاوت کے طریق کے متعلق کہنا چاہتا ہوں یعنی یہ کہ قرآن کریم کس طرح پڑھا جائے اور اس کی تلاوت میں کیا پہلو مد نظر رکھا جائے؟ سو قرآن کریم کے مطالب اور محاسن تو اتنے وسیع ہیں کہ اسے یقیناً ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ کہا جاسکتا