مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 566 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 566

مضامین بشیر ہے کہ دعا محض رسمی رنگ میں نہ کی جائے بلکہ دلی تڑپ اور بچے سوز و گداز کے ساتھ خدا کے سامنے ہاتھ پھیلائے جائیں۔دیکھو اس فقیر پر کسی شخص کو رحم نہیں آتا جو اپنی گردن اکڑ ائے ہوئے اور ادھر ادھر کے نظاروں کا تماشا کرتے ہوئے کوئی سوال کا کلمہ زبان پر لے آتا ہے اور پھر منہ پھلائے ہوئے آگے نکل جاتا ہے بلکہ صرف اسی سوالی کے دامن میں بھیک ڈالی جاتی ہے جس کے متعلق وہ شخص جس سے سوال کیا گیا ہو، محسوس کرتا اور یقین رکھتا ہے کہ یہ شخص بالکل بے بس اور بے کس ہو کر میرے سامنے آ گرا ہے اور اگر میں اسے سہارا نہیں دوں گا تو وہ گر کر خاک میں مل جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ دعا کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ کچی دعاوہ ہے جس پر پنجابی کی یہ مشل صادق آتی ہے کہ: جو منگے سو مر رہے۔مرے سومنگن جائے۔سومر - یعنی سوال کرنا ایک موت کی کیفیت چاہتا ہے اور دراصل سوال کی حقیقی حاجت بھی ایک گونہ موت کا نتیجہ ہوا کرتی ہے۔“ بہر حال میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ امتحانوں اور ابتلاؤں کے دن ہیں ، انہیں چاہئے کہ ان ایام کو خصوصیت کے ساتھ دعاؤں میں گزاریں اور خدا کے دامن کو اس مضبوطی کے ساتھ پکڑیں اور پھر ایسی تڑپتی ہوئی روح کے ساتھ اسے جنبش دیں کہ خدا کا عرش حرکت میں آجائے اور اس کی رحمت ہمیں اس طرح اپنے دامن میں چھپالے جس طرح ایک مرغی کا بچہ اپنی ماں کے پروں میں چھپ جاتا ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ دعائیں کیا کی جائیں۔سو گو میں نے ذاتی طور پر آج تک کبھی اپنی کسی دنیوی غرض کے لئے دعا نہیں کی سوائے اس کے کہ کوئی بظاہر ایسا د نیوی امر پیش آجائے جس کی تہہ میں دینی غرض مخفی ہو۔لیکن طبیعتیں اور مذاق مختلف ہوتے ہیں اور شریعت انسانی فطرت کو دبانے کے لئے نہیں آئی بلکہ زندہ رکھنے کے لئے آئی ہے۔پس جس شخص کو جو بھی ضرورت در پیش ہے وہ اس کے لئے دعا مانگے اور آنحضرت ﷺ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر تمہاری جوتی کا تسمہ ٹوٹ جاتا ہے تو وہ بھی خدا سے مانگو۔لیکن اس میں شبہ نہیں اور موجودہ حالات کا یہی تقاضا ہے کہ ہماری بیشتر دعائیں اسلام اور احمدیت کی ترقی اور جماعت کی بحالی اور احمدیت کے مقاصد کے حصول کے لئے وقف ہونی چاہئیں۔میں نے عرصہ ہوا بخاری کی یہ حدیث پڑھی تھی کہ آنحضرت یہ سب سے زیادہ دعا یہ مانگا کرتے تھے کہ:۔ربنا آتنا في الدنيا حسنة و في الاخرة حسنة وقنا عذاب النار ,, ۵۷ یعنی اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی حسنات عطا کر اور آخرت میں بھی حسنات عطا کر اور ہمیں ہر قسم کی آگ کے شر سے محفوظ رکھ۔“