مضامین بشیر (جلد 2) — Page 537
۵۳۷ جو وہ خود کھاتا ہے اور اس لباس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ دے جو وہ خود پہنتا ہے۔اور اے مسلمانو! تم اپنے خادموں کو کوئی ایسا کام نہ دیا کرو جوان کی طاقت سے زیادہ ہو اور کبھی مجبوراً انہیں کوئی ایسا کام دینا پڑے تو پھر اس کام میں خود بھی 66 مضامین بشیر ان کی مدد کیا کرو۔“ یہ حدیث جیسا کہ اس کے الفاظ اور اسلوب بیان سے ظاہر ہے ایک نہایت اہم اور اصولی حدیث ہے اور ان کی مدد کیا کرو کے الفاظ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ کام ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ اگر وہ خود آقا کو کرنا پڑے تو اسے اپنے لئے موجب عار سمجھے بلکہ ایسا ہونا چاہیئے جسے خود آقا بھی کر سکتا ہو اور کرنے کو تیار ہو۔گویا اس حدیث میں خادموں کے ساتھ حسن سلوک اور برادرانہ برتاؤ کی تلقین کے علاوہ یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ کسی مسلمان کے لئے زیبا نہیں کہ وہ کسی کام کو اپنے لئے موجب عار سمجھے یا یہ خیال کرے کہ یہ کام صرف خادم کے کرنے کا ہے میرے کرنے کا نہیں۔چنانچہ ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کا کام خود اپنے ہاتھ سے کر لیتے تھے اور کسی کام کو عار نہیں سمجھتے تھے۔یہ بھی یادرکھنا چاہیئے کہ اوپر کی حدیث میں جو حول کا لفظ آیا ہے وہ عربی محاورہ کے مطابق نوکروں اور خادموں پر بولا جاتا ہے اس طرح اس حدیث میں گویا ایک نہایت وسیع مضمون مد نظر رکھا گیا ہے بہر حال اسلام نے آقاؤں اور خادموں کے تعلقات کو بھی بہترین بنیاد پر قائم کیا ہے۔بیاہ شادی کے معاملات میں اسلامی تعلیم بیاہ شادی کا معاملہ بھی تمدنی تعلقات ہی کا حصہ ہے مگر افسوس کہ دنیا داروں نے اس میدان میں اپنے خیال کے مطابق مختلف طبقے بنارکھے ہیں اور غیر طبقہ میں رشتہ دینے کو مو جب ہتک سمجھا جاتا ہے۔سواس کے متعلق ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تَنْكِحَ الْمَرْأَةُ لَا رُبَعٍ لِمَا لِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجِمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرَ ۳۳ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَكَ د یعنی ایک عورت کے ساتھ چار خیالات کی بنا پر شادی کی جاتی ہے۔یا تو دولت کی وجہ سے بیوی کا انتخاب کیا جاتا ہے اور یا حسن و جمال کی وجہ سے انتخاب کیا جاتا ہے اور یا اخلاقی اور دینی حالت کی بنا پر انتخاب کیا جاتا ہے۔لیکن اے مرد مومن تو ہمیشہ بیوی کا انتخاب دینی اور اخلاقی بنا پر کیا کر اور ذاتی اوصاف اور ذاتی نیکی کے