مضامین بشیر (جلد 2) — Page 341
۳۴۱ مضامین بشیر مسلمان نہیں ، موجودہ بحث کے لحاظ سے ایک بالکل لاتعلق سوال ہے۔کیونکہ اگر صرف مذہبی اختلاف کو دیکھا جائے۔اور صرف علماء کے فتوے کو مدنظر رکھا جائے تو مسلمانوں کا کوئی فرقہ بھی کفر کے الزام سے بچا ہوا نظر نہیں آتا۔اہل سنت والجماعت کے کفر کے فتوے شیعوں کے خلاف موجود ہیں اور شیعوں کے کفر کے فتوے سنیوں کے خلاف موجود ہیں۔اسی طرح حنفیوں کے کفر کے فتوے اہلحدیث کے خلاف موجود ہیں اور اہلحدیث کے کفر کے فتوے حنفیوں کے خلاف موجود ہیں۔تو کیا ان فتوؤں کی وجہ سے یہ سب لوگ واجب القتل سمجھے جائیں گے؟ حق یہ ہے کہ مذہبی عقیدہ کا سوال بالکل جدا گانہ ہے۔لیکن سیاست کے میدان میں اسلام کی اس تعریف کو قبول کرنے کے بغیر چارہ نہیں۔اور ہماری جماعت کا شروع سے ہی یہ اعلان رہا ہے۔کہ جو شخص بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کا مدعی ہے اور قرآن شریف کو خدا تعالیٰ کی آخری شریعت سمجھتا ہے۔یا بالفاظ دیگر ہر وہ شخص جسے غیر مسلم لوگ مسلمان سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا سلوک کرتے ہیں وہ سیاست کے میدان میں مسلمان سمجھا جائے گا اور مسلمان سمجھا جانا چاہیئے اور اسے مسلمانوں والے سیاسی حقوق ملنے چاہئیں۔اس تعریف کے سوا اسلام کی کوئی اور تعریف ایسی نہیں جو سیاست کے میدان میں قابل قبول سمجھی جاسکے۔ورنہ اگر اس تعریف کو چھوڑ کر عقائد کی تفصیل اور علماء کے فتوؤں کی طرف دیکھا جائے تو دنیا کا کوئی اسلامی فرقہ بھی اس کی زد سے بچ نہیں سکتا اور پاکستان کی خداداد حکومت چند دن کے اندر ایک دوسرے کے خون خرابہ کا ہولناک منظر بن سکتی ہے۔پس میں ہر سمجھدار اور سنجیدہ اور دردمند مسلمان سے خدا کے نام پر اور پاکستان کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ وہ وقت کی نزاکت کو پہچانے اور حکومت پاکستان کے اس نازک دور کو ان تخریبی تحریکوں سے بچانے کی کوشش کرے جو اگر آزاد چھوڑ دی جائیں تو بڑی سے بڑی حکومت کو چند دن میں ختم کر سکتی ہیں۔کوئٹہ کا دردناک واقعہ جو یقیناً اپنی نوعیت میں پاکستان کا پہلا واقعہ ہے، ہر سمجھدار اور دردمند مسلمان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔اسی طرح ہر سنجیدہ اسلامی اخبار کا خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو، یہ فرض ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس فتنہ کے سدباب کے لئے کوشش کرے۔یہ صرف جماعت احمدیہ اور دوسرے مسلمانوں کا سوال نہیں ہے۔بلکہ ایک نہائت وسیع اور اصولی سوال ہے۔کیونکہ خواہ یہ فتنہ اپنی موجودہ اور ابتدائی صورت میں کتنا ہی معمولی نظر آئے۔لیکن ایک دور بین آنکھ اس کی تہہ میں وہ خطر ناک چنگاری دیکھ سکتی ہے۔جو بڑی سے بڑی آگ کا موجب بن جاتی ہے۔خدا جانتا ہے کہ میں نے مختصر الفاظ حقیقی در داور سچے اخلاص کے ساتھ لکھے ہیں۔کاش ان الفاظ کو اسی در داور اسی اخلاص کے ساتھ پڑھا جائے جس کے ساتھ وہ لکھے گئے ہیں۔وما علينا الا البلاغ ولاحول ولاقوة الا با الله العظیم۔( مطبوعہ الفضل ۲۷ اگست ۱۹۸۴ء)