مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 19 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 19

۱۹ مضامین بشیر رنگ تو نہیں رکھتا کیا وہ اسے اُضْرَب واضْرِب کے میدان سے نکال کر گھر کی بظاہر پُر امن مگر دراصل پر خطر چار دیواری میں محصور تو نہیں کر رہا۔تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام نے صرف اس وقت تک ترقی کی جب تک کہ مسلمان چند گنتی کے نفوس کی ٹولیوں میں تمام خطرات سے بے پروا ہو کر غیر ملکوں میں گھس جاتے رہے اسلام کی زندگی غیر قوموں کے مقابل پر مسلسل جد وجہد کے ساتھ وابستہ ہے مگر میں ڈرتا ہوں کہ پاکستان کا نظریہ مسلمانوں کو اس جد و جہد سے باہر نکال رہا ہے۔(۷) پھر میرے دل میں یہ خیال بھی آیا کہ کہیں پاکستان کا اصول اور اسلامی تبلیغ کا نظریہ آپس میں ٹکراتے تو نہیں میرے دل نے کہا کہ تبلیغ کے معنی دوسرے کے گھر میں پر امن نقب لگانے کے ہیں مگر پاکستان کا مطالبہ اس اصول پر مبنی ہے کہ چونکہ ہند و مسلمان آپس میں مل کر امن کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔اس لئے انہیں علیحدہ علیحدہ گھر ملنا چاہئے ، جس میں وہ ایک دوسرے سے جدا رہتے ہوئے چین کی زندگی گزار سکیں تو اس صورت میں جو شخص اس مخصوص سمجھوتہ کے ماتحت دوسرے سے جدا ہوتا ہے کہ ہم آئندہ علیحدہ علیحدہ رہیں گے وہ کبھی بھی دوسرے شخص سے یہ توقع نہیں رکھ سکتا کہ وہ اسے کبھی اپنے گھر میں گھر والا بن کر داخل ہونے کی اجازت دے گا۔پس میرا دل اس خیال سے خائف ہوا کہ پاکستان کا نظریہ اسلامی نفوذ کی پالیسی سے ٹکراتا ہے اور اس کے نتیجہ میں تبلیغ اسلام کا دروازہ بقیہ ہندوستان میں عملاً بند ہو جاتا ہے اور دوسری طرف میں نے سوچا کہ اگر تبلیغ کا دروازہ کھلا رہے تو شمال اور شمال مشرقی پاکستان تو ایک معمولی چیز ہے ہم انشاء اللہ سو پچاس سال کے عرصہ میں سارے ہندوستان کو ہی پاکستان بنا سکتے ہیں یہ ایک ہوائی دعویٰ نہیں ہے بلکہ اسلامی تاریخ اس بات کی کئی زندہ مثالیں پیش کر سکتی ہے کہ جنگ کے ذریعہ سے نہیں بلکہ پُر امن تبلیغ کے ذریعہ پچاس پچاس سال کے اندر ملکوں کی کایا پلٹ دی گئی ہے بلکہ خود ہندوستان کے اندر ہماری آنکھوں کے سامنے یہ مثال موجود ہے کہ آج سے پچاس سال پہلے پنجاب میں ہندوؤں کی اکثریت تھی مگر آج مسلمانوں کی اکثریت ہے تو جب ایک معمولی جد و جہد نے یہ انقلابی نتیجہ پیدا کر دیا ہے تو ایک وسیع والہانہ کوشش کیا کچھ نہیں کر سکتی؟ مگر میں ڈرتا ہوں کہ پاکستان کا نظریہ ایسی کوشش کا دروازہ بند کرتا ہے مذہبی لوگ عموماً دیوانے سمجھے جاتے ہیں اور شاید دنیوی معیاروں کے مطابق یہ کسی حد تک درست بھی ہو۔مگر دور کے افق میں اس بات کے یقینی آثار نظر آرہے ہیں کہ انشاء اللہ العزیز ابھی ایک سو سال کا عرصہ نہیں گذرے گا کہ ہندوستان کا وسیع ملک فرقہ وارانہ مناقشات کے خطرہ سے کلی طور پر باہر ہو جائے گا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کو خاص تحفظات کی ضرورت نہیں یقیناً موجودہ حالات میں مسلمان کمزور بھی ہیں اور مظلوم بھی اور ملک کا عام قانون ان کی حفاظت نہیں کر سکتا۔کیونکہ ہند وقوم نے