مضامین بشیر (جلد 2) — Page 261
۲۶۱ مضامین بشیر رنگ اختیار کریں۔خدا کے فضل و کرم سے انجام کار حق و انصاف ہی کی فتح ہو گی۔اس تعلق میں بعض دوستوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک رؤیا کی طرف توجہ دلائی ہے جو حضور نے غالبا ۱۸۹۱ ء یا ۱۸۹۳ء میں دیکھا تھا اور یہ رویاء آئینہ کمالات اسلام کے ص ۷۸ ۵ تا ص ۵۸۱ پر شائع ہو چکا ہے۔اس رؤیا کو جو گویا موجودہ حالات کا ایک مکمل نقشہ ہے۔حضور نے عربی میں درج فرمایا ہے اور حضور کی عبارت کا اردو ترجمہ ( جو مولوی ابوالعطاء صاحب نے کیا ہے۔اور میں نے اردو کے لحاظ سے اس میں معمولی لفظی تبدیلی کی ہے ) درج ذیل ہے : خاکسار: مرزا بشیر احمد قادیان ۲ ستمبر ۱۹۴۷ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے اپنے کسی کام کے لئے اپنے گھوڑے پر زین کسا ہے۔مجھے معلوم نہیں کہ میری یہ تیاری کہاں کے لئے ہے اور میرا مقصود کیا ہے۔ہاں میں اپنے دل میں محسوس کرتا تھا کہ اس وقت مجھے کسی خاص امر کے لئے شغف ہے۔سو میں اپنے تیز رفتار گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو گیا اور میں نے اپنے ہمراہ بعض ہتھیار بھی لئے ہیں۔میں اس وقت اہل تقویٰ وصلاح کی سنت کے مطابق اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتا تھا۔لیکن میں سست اور کاہل لوگوں کی طرح بھی نہ تھا۔بعد از ان میں نے محسوس کیا کہ مجھے کچھ گھوڑے سواروں کا پتہ لگا ہے جو ہتھیار بند ہو کر مجھے ہلاک و بر باد کر نے کے لئے میرے گھر اور مکانات کا قصد کر رہے ہیں۔وہ گویا مجھے نقصان پہنچانے کے لئے اکٹھے ہو کر آرہے ہیں اور میں تنہا ہوں۔بایں ہمہ میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے بجز اس تیاری کے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تعویز مجھے ملی تھی کوئی خود وغیرہ نہیں پہنا ہوا تھا۔البتہ مجھے اس امر سے نفرت تھی کہ میں خوفزدہ لوگوں کی طرح پیچھے رہنے والوں میں رہوں۔پس میں تیزی کے ساتھ ایک جہت کی طرف گیا تا اپنے مقصد کو تلاش کروں جو میرے خیال میں دینی اور دنیوی لحاظ سے ایک نہایت اہم اور بڑے ثواب کا کام تھا۔تب میں نے اچانک ہزار ہا لوگ گھوڑوں پر سوار دیکھے جو جلد جلد میری طرف بڑھ رہے تھے۔میں انہیں دیکھ کر شیر کی طرح خوش ہوا۔اور میں نے ان کے مقابلہ اور مزاحمت کے لئے اپنے دل میں طاقت محسوس کی اور میں شکاریوں کی طرح ان کا پیچھا کرنے لگ گیا۔پھر میں نے تیزی سے ان کے پیچھے اپنا گھوڑا ڈالا۔تا ان کی حقیقت حال معلوم کر سکوں اور مجھے پختہ یقین تھا کہ میں ضرور کامیاب ہوں گا۔سو میں ان لوگوں کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ وہ میلے کچیلے (دیہاتی) کپڑوں والے اور کر یہہ النظر لوگ ہیں اور ان کی شکل و ہئیت مشرک لوگوں کی طرح ہے اور ان کے لباس قانون شکنی