مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 258 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 258

مضامین بشیر ۲۵۸ یعنی جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے تو وہ اس کے ثواب کا حصہ دار بنے گا مگر جو شخص بری سفارش کرتا ہے تو وہ اسی طرح اس کے گناہ میں سے بھی حصہ پائے گا۔یعنی جس سفارش کا اثر کسی دوسرے کے جائز حقوق پر نہ پڑتا ہو اور وہ اچھے نتائج پیدا کرنے والی ہو تو ایسی سفارش ایک نیکی کا کام ہے جس کے ثواب کا حصہ سفارش کرنے والے کو بھی پہنچے گا۔لیکن اگر سفارش کا اثر دوسروں کے جائز حقوق پر پڑتا ہو اور اسکے نتائج ملک وقوم کے لئے خراب نکلنے والے ہوں تو ایسی سفارش کرنے والا یہ خیال نہ کرے کہ اس نے ایک سفارش کر دی اور معاملہ ختم ہو گیا۔بلکہ ایسا شخص یا در کھے کہ اس کی سفارش کے جو جو بھی برے نتیجے نکلیں گے اور جہاں جہاں تک بھی ان خراب نتائج کا اثر وسیع ہوا سفارش کرنے والا ان سب نتائج کے گناہ کا حصہ دار بنے گا۔مگر افسوس ہے کہ آجکل پچانوے فیصد سفارشیں نیک نتائج پیدا کرنے کی بجائے کمزور اور بیکس لوگوں کے خلاف ظلم اور حق تلفی کا آلہ بنی ہوئی ہیں۔اور ظاہر ہے کہ ایسی سفارش کو قبول کرنے والا بھی عدل وانصاف کے رستہ سے ہٹ کر بھاری گناہ کا مرتکب ہوتا ہے کاش ہمارے ملک سے یہ روز افزوں لعنت دور کی جا سکے! میرا یہ مختصر نوٹ میرے اندازہ سے لمبا ہو گیا ہے اور آجکل میری طبیعت بھی علیل ہے اور میں زیادہ نہیں لکھ سکتا اس لئے اب صرف ایک آخری بات کہہ کر اپنے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔یہ آخری بات اس اصول سے تعلق رکھتی ہے کہ حکومتیں اور وزارتیں اپنی عمر کو کس طرح لمبا کر سکتی ہیں۔دنیا میں مرتی تو ہر چیز ہے ، مگر کیا یہ نظارہ ہمیں نظر نہیں آتا کوئی بچہ ماں کے پیٹ میں ہی مرجاتا ہے، کوئی دنیا میں آنکھیں کھولتے ہی دم تو ڑ دیتا ہے، کوئی چار سانس لیکر ختم ہو جاتا ہے ، کوئی دو چار سال یا دس ہیں سال کی زندگی گزارنے کے بعد اگلے جہاں کا رستہ لے لیتا ہے۔کوئی عین عالم شباب میں جبکہ جوانی اپنے پورے زور میں ہوتی ہے ہمیشہ کی نیند سو جاتا ہے، مگر کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنی طبعی عمر کو پہنچتا ہے اور نیک اعمال بجالا کر دریا میں ایک عمدہ یاد گار چھوڑ جاتا ہے۔یہی حال حکومتوں کا ہے وہ بھی کبھی تو پیدا ہوتے ہی مرجاتی ہیں اور کبھی اپنی جوانی کے زمانہ میں کاٹ دی جاتی ہیں مگر کبھی اپنی طبعی عمر پا کر اور اچھے کام کر کے جریدہ عالم پر اپنا ہمیشگی کا نقش ثبت کر جاتی ہیں۔ہمارا کامل و مکمل مذہب اس کیمیا وی گر کی طرف سے بھی غافل نہیں رہا۔چنا نچہ قرآن شریف فرماتا ہے :۔۵۴ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ ) د یعنی دریائی جھاگ کی طرح کی فضول چیزیں جھاگ کی طرح ہی پیدا ہو کر بے نفع صورت میں ختم ہو جاتی ہیں مگر جو چیز لوگوں کو حقیقی نفع پہنچانے والی ہوتی ہے وہ دنیا میں قائم رہتی ہے۔“ یہ وہ لطیف کیمیا وی نسخہ ہے جس سے ہر حکومت اپنی عمر کو لمبا کر سکتی ہے۔اگر کوئی حکومت یہ خیال کرے کہ