مضامین بشیر (جلد 2) — Page 185
۱۸۵ مضامین بشیر ابلیس کو پیدا ہی اس غرض و غایت سے کیا تھا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتا پھرے اور ان کے لئے ابتلاؤں کا سامان مہیا کرے تو پھر اسے آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دینے کے کیا معنی؟ خدا جیسی حکیم ہستی کسی وجود کو وہ حکم نہیں دے سکتی جو اس کی پیدائش کی غرض وغایت کے خلاف ہے۔مگر قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ ابلیس کو سجدہ کا حکم دیا گیا جس سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ ابلیس کی پیدائش کی غرض و غایت یہ نہیں تھی کہ وہ لوگوں کے لئے گمراہی کے سامان مہیا کرے ورنہ اُسے ہرگز ایسا حکم نہ دیا جاتا۔(۴) چوتھی دلیل جو مجھے اس مسئلہ میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقِّ أَقُولُ : لَا مَلَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ یعنی قرآن فرماتا ہے کہ جب ابلیس نے سجدہ کے حکم سے انکار کیا ( جیسا کہ ہر زمانہ میں ابلیس صفت لوگ خدا کے رسولوں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا کرتے ہیں) اور غرور کے رنگ میں اس بات کا دعویٰ کیا کہ اب میں بھی تیرے بندوں کو گمراہ کرنے میں کمی نہیں کروں گا تو خدا تعالیٰ نے اسے فرمایا۔" تو پھر میری بھی ایک صاف صاف بات سُن لے کہ اس صورت میں میں تجھے اور تیرے پیچھے چلنے والی ہستیوں کو جہنم کی آگ میں بھروں گا۔“۔ان الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ ابلیس کا مغوی ہونا اس کی پیدائش کی غرض اور اُس کی فطرت کا حصہ نہیں۔بلکہ بعد کا اختیار کیا ہوا طریق ہے ورنہ اسے جہنم کی سزا نہ دی جاتی۔ظاہر ہے کہ جب ایک ہستی کو پیدا ہی اس غرض سے کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتی پھرے تو پھر اس کا یہ کام سزا کا مستوجب نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ تو اپنی پیدائش کی اس غرض و غایت کو پورا کر رہی ہے جو خود خدا نے اس کے لئے مقدر کی ہے تو اس صورت میں سزا کے کیا معنی؟ بے شک اگر کسی چیز کو اس رنگ میں آگ کے اندر ڈالا جائے کہ وہ فطری طور پر آگ کا ایندھن ہے جیسا کہ کوئلہ یا لکڑی وغیرہ کو آگ میں ڈالا جاتا ہے تو یہ اور بات ہے مگر ایک ہستی کو سزا کے طریق پر آگ میں ڈالنا صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اس نے خود اختیاری کے طریق پر جرم کا ارتکاب کیا ہو۔اس کے علاوہ میرے ذہن میں بعض اور متفرق دلائل بھی ہیں مگر میں اس جگہ اختصار کے خیال سے صرف انہیں چار دلیلوں پر اکتفا کرتا ہوں اور اپنے معزز علماء سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس بارہ میں مزید تحقیق کر کے اپنا خیال ظاہر فرما ئیں تا کہ ہم ایک آخری نتیجہ پر پہنچنے کے لئے اس مسئلہ کو حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے سامنے پیش کر سکیں۔خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایک محض علمی اور فلسفیانہ مسئلہ ہے۔جس میں ہمیں بلا وجہ پڑنے کی ضرورت نہیں مگر حق یہ ہے کہ یہ ایک محض فلسفیانہ بحث نہیں ہے بلکہ ہماری زندگیوں اور ہمارے اعمال پر عملاً اثر ڈالنے والی چیز ہے