مضامین بشیر (جلد 2) — Page 175
۱۷۵ مضامین بشیر۔تکلف در اصل نفاق کا ایک حصہ ہے اور نفاق دوسرے لفظوں میں ایک ذلیل قسم کا جھوٹ ہے جسے کوئی شریف آدمی اختیار نہیں کر سکتا۔پس میں کہوں گا کہ اپنے ملک اور قوم اور زمانہ کے حالات کے مطابق اور اپنی مالی حیثیت کے پیش نظر اسلام کی تعلیم پر قائم رہتے ہوئے جس قسم کا لباس بھی چاہو اختیار کر مگر بہر حال اسے تکلف کی لعنت سے بچاؤ۔کیونکہ یہ لعنت تمہارے فطری حسن کو تباہ کر کے رکھ دے گی۔( چهارم ) چوتھی اصولی بات جو لباس کے معاملہ میں ہمیں اسلامی تعلیم سے معلوم ہوتی ہے۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان پیارے الفاظ میں مرکوز ہے کہ مَن تَشَبَّهَ بِقَومٍ فَهُوَ منهم۔یعنی جو شخص اپنے طریق زندگی اور اپنے لباس اور اپنے طرز بود و باش کو ترک کر کے کسی دوسری قوم کے طریق زندگی اور ان کے لباس اور ان کے بود و باش کو اختیار کرتا ہے ، وہ انہی میں سے ہے اور انہی میں سے سمجھا جانا چاہئے۔کیونکہ جب وہ اپنے طریق کو ترک کر کے ایک دوسری قوم کے طریق کو اختیار کرتا ہے تو لازماً اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے طریق کو ادنی قرار دے کر دوسرے کے طریق کی فوقیت کو تسلیم کرتا ہے۔پس اس بات میں کیا شبہ ہے کہ ایسا شخص خواہ زبان سے کچھ دعویٰ کرے۔اس کا دل اس قوم کے ساتھ ہوتا ہے جس کی مشابہت وہ اختیار کرتا ہے۔دراصل یہ ایک بدترین قسم کی ذہنی غلامی ہے کہ انسان منہ سے تو یہ دعوی کرے کہ میں مسلمان ہوں مگر اپنے طریق زندگی اور اپنے لباس اور اپنے طرز بود و باش میں عیسائیوں کا نقال ہو۔ایسا شخص یقینا اپنے زبانی دعوی کے باوجود مسیحیت کے بت کے سامنے سجدہ کرنے والا سمجھا جائے گا۔کیونکہ وہ اپنے فعل سے اپنے تمدن کو ادنے اور مسیحیت کے تمدن کو اعلیٰ قرار دیتا ہے۔مگر افسوس صد افسوس کہ آجکل کے مسلمانوں نے اس قسم کی ذہنی غلامی سے پیٹ بھر کر حصہ لیا ہے۔ان کی آزادی کا دعوی ایک زبانی دعوی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔کیونکہ ان کا دل غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔یقیناً ایک ظاہری غلام جس کے ہاتھ پاؤں کی غلامی کے باوجود اس کا ضمیر آزاد ہے اس شخص کی نسبت بہت زیادہ حریت کے مقام پر قائم سمجھا جائے گا ، جس کے ہاتھ پاؤں تو بظا ہر آزاد ہیں مگر اس کا دل غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔پس میں اپنے عزیزوں سے کہوں گا کہ کوئی لباس بھی اسلامی نہیں جس طرح کوئی لباس غیر اسلامی نہیں ، مگر جو شخص ذہنی غلامی میں مبتلا ہو کر کسی دوسری قوم کے ساتھ تشبیہ اختیار کرتا ہے۔اس کا طریق خواہ وہ لباس سے تعلق رکھتا ہے یا کسی اور امر سے یقیناً غیر اسلامی ہے۔ہمیں کوٹ پتلون سے دشمنی نہیں ہے مگر دجالی تہذیب کی نقالی سے ضرور دشمنی ہے اور اس اصول کے ماتحت ایسا شخص بھی اسی طرح زیر علامت ہے جو انگریز ہو کر ہندوستانیوں کی نقالی میں چوڑی دار پاجامہ پہنتا ہے جس طرح کہ ایک