مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 121 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 121

۱۲۱ مضامین بشیر کی انتہائی کوفت میں مبتلا کر کے خالصة لوجه الله کیا گیا۔مجھے یاد ہے کہ جب لا ہور سے کنوائے جاتا تھا تو اس کی تیاری کے لئے میں اور میر ا عملہ بسا اوقات رات کے تین تین بجے تک مسلسل کام میں لگے رہتے تھے اور بعض راتیں تو ہم ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں سوئے۔مگر یہ ہمارا کسی پر احسان نہیں ہے بلکہ خدا کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ان خطرہ کے ایام میں خدمت کا موقع دیا۔ان ایام میں بعض دوست میرے پاس آتے تھے کہ ہمیں زیادہ سامان بھجوانے کی اجازت دی جائے۔میں انہیں سمجھاتا تھا کہ دیکھو اس وقت سوال یہ ہے کہ خطرہ بالکل قریب آگیا ہے اور ٹرکوں کی تعداد تھوڑی ہے۔اب چاہو تو احمدی عورتوں اور بچوں کی جان بچالو اور چاہو تو اپنا سامان محفوظ کرلو۔اکثر دوست میرے اس اشارہ کو سمجھ جاتے تھے مگر بعض کوتاہ بین لوگ دل برداشتہ بھی نظر آتے تھے لیکن میں مجبور تھا کہ بہر حال مومنوں کی جانوں اور خصوصا عورتوں کی جانوں کو ( جن کی جانوں کے ساتھ ان کے ناموس کا سوال بھی وابستہ تھا ) سامان پر مقدم کروں۔آخر ہر ٹرک کی گنجائش اور بوجھ اٹھانے کی طاقت محدود ہوتی ہے۔اگر ہم ایک ٹرک پر سامان زیادہ لاد دیں گے تو لازماً سواریاں کم بیٹھیں گی اور اگر سامان کم ہوگا تو لازماً سواریوں کے لئے زیادہ گنجائش نکل آئے گی۔ہماری اس تذبیر کا نتیجہ عملی صورت میں بھی ظاہر ہے کہ مشرقی پنجاب کی تمام دوسری جگہوں کی نسبت قادیان میں جانی نقصان نسبتی طور پر بہت کم ہوا ہے اور اغوا کے کیس تو خدا کے فضل سے بہت ہی کم ہوئے ہیں۔بلکہ جہاں تک میراعلم ہے قادیان کے احمدی مہاجرین میں سے کوئی ایک عورت بھی اغواہ شدہ نہیں ہے۔جو ظاہری لحاظ سے ( کیونکہ اصل حفاظت تو خدا کی ہے ) اسی تدبیر کا نتیجہ تھا کہ اکثر عورتوں کو خطرہ سے پہلے نکال لیا گیا اور جو تعداد حملہ کے وقت قادیان میں موجود تھی وہ اتنی محدود تھی کہ خطرہ پیدا ہوتے ہی ہمارے آدمی انہیں فوڑا سمیٹ کر محفوظ جگہوں میں لے آئے ورنہ اگر زیادہ تعداد ہوتی تو انہیں اتنے قلیل نوٹس پر سمیٹنا ناممکن ہوتا اور ان کا اتنی محدود جگہ میں سمانا بھی ناممکن تھا۔بہر حال جو کچھ کیا گیا جماعت کی بہتری اور افراد جماعت کی بہتری کے خیال سے کیا گیا مگر یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ بڑے خطرے کے بخیریت گزر جانے پر وہ گزرے ہوئے خطرے کو تو بھول جاتا ہے۔اور نسبتاً چھوٹے نقصان کو جو اس نے اس عرصہ میں برداشت کیا ہو زیادہ بڑھا چڑھا کر دیکھتا ہے۔چونکہ اوپر کے بیان کردہ حالات کے ماتحت جانوں کو محفوظ کرتے کرتے کئی لوگوں کا مالی نقصان ہو گیا۔کیونکہ ان کا سامان وقت پر باہر نہیں نکالا جا سکا۔(اور خود ہمارے خاندان کا سامان چھ سات لاکھ روپے کا ضائع ہوا ہے اور جائیداد کے نقصان کو شامل کر کے تو یہ نقصان قریباً ایک کروڑ کا بنتا ہے مگر خدا جانتا ہے کہ جماعتی نقصان کے مقابلہ پر کبھی اپنے نقصان کی طرف خیال نہیں گیا ) مگر بعض