مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1029 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1029

۱۰۲۹ مضامین بشیر ہو کر خاک میں مل گئے اور جو لوگ ادھر ادھر چھپ کر بچے انہیں دریا کا بند تو ڑ کر تہہ خانوں میں بند کر دیا گیا۔جانیں تلف ہوئیں۔جائیداد میں لٹیں۔عزتیں مٹیں۔کتب خانے برباد ہوئے اور نہ معلوم کتنی عصمتیں خاک میں مل گئیں اور دنیا کا یہ مرکز اعظم ایک آن واحد میں مٹی کا ڈھیر بن کر رہ گیا۔یہ تباہی تاریخ عالم میں بے نظیر تھی اور گو یہ مسلمانوں کے اپنے ہی اعمال کا ثمر تھی مگر کافر کے ہاتھوں مسلمان کی تباہی کا یہ نظارہ ایسا ہولناک تھا کہ اس کے تصور سے آج بھی آنکھیں نیچی ہونے لگتی ہیں مگر جس برق رفتاری سے یہ طوفان اٹھا تھا اسی برق رفتاری سے خدا کا انتقام بھی آیا اور دیکھو کہ کس شان سے آیا۔ہاں دیکھو کہ کس شان سے آیا کہ ہلاکو خاں بت پرست فاتح کا فر کا لڑکا چند سال کے اندر جبکہ ابھی اس فتح کا خمار بھی نہیں اترا تھا کلمہ پڑھ کر اور فاتح سے مفتوح بن کر اسلام کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو گیا۔یہ بغداد کی تباہی کا پہلا انتقام تھا اور دوسرا انتقام اس طرح لیا گیا کہ منگولی قبائل کے چچا زاد بھائیوں یعنی مغلوں میں سے خدا نے اس آخری زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیدا کیا تا آپ کے ذریعہ اسلام کے دائمی غلبہ اور اس کی شان وشوکت کے دوسرے دور کی بنیا د قائم کی جائے۔پس بے شک بغداد تباہ ہوا اور اسلام کی ظاہری شان وشوکت پر بڑی مصیبت آئی مگر اس کے انتقام نے بھی وہ فوق العادت شان اختیار کی جو دنیا کی تاریخ میں عدیم المثال ہے اور ہمیشہ عدیم المثال رہے گی۔دوسری بڑی تباہی سپین یعنی ہسپانیہ کی ہے ابھی غالباً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ زندہ ہی تھے کہ مسلمان مجاہد شمالی افریقہ کے رستہ سپین کے ملک میں جو یورپ کا ایک اہم حصہ ہے داخل ہوئے اور فاتحانہ یلغار کرتے ہوئے فرانس کی حدود تک پہنچ گئے اور اس کے بعد سپین میں اسلامی حکومت کا وہ دور شروع ہوا جو بعض لحاظ سے اسلام کی تاریخ کا سب سے زیادہ سنہری ورق ہے۔مسلمانوں نے سات آٹھ سو سال تک سپین میں وہ شاندار حکومت کی جس کی شعاعیں آج تک دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہیں۔یہ حکومت صرف تلوار کی حکومت نہیں تھی بلکہ دل کی حکومت تھی۔دماغ کی حکومت تھی۔علم کی حکومت تھی۔عمل کی حکومت تھی۔تہذیب کی حکومت تھی۔تمدن کی حکومت تھی۔فن حدیث کو چھوڑ کر جس کے لئے مدینتہ النبی کا قرب خاص مناسبت رکھتا تھا باقی سارے علوم میں سپین کے عربوں نے وہ شاندار ہستیاں پیدا کیں جو دیکھتے دیکھتے دنیا کی معلم بن گئیں اور آج تک دنیا کا لٹریچر ان کی بے مثل تصانیف کا مرہون منت ہے یورپ کے علماءاور فلاسفر اور حکیم خوشہ چین بن بن کر سپین میں آتے تھے اور عرب مفکروں کے سامنے زانوئے تلمیذی طے کر کے اپنے نوشتہ دانوں کو علم کے ذخیروں سے بھر بھر کر واپس لے جاتے تھے۔تفسیر، فقہ، تاریخ ، فلسفه، طب ، علم ، جراحی علم ، جغرافیہ،