مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1003 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1003

1005 مضامین بشیر یہاں مزید ٹھہرنے کی تحریک کی جائے۔آئمکرم کے ملاحظہ کے لئے یہ اشعار ذیل میں رقم ہیں۔کیا چلے جانا ہے تم کو قادیاں کو چھوڑ کر چھوڑ کر دار الاماں جنت نشاں کو چھوڑ کر جس کی ہر موج ہوا ہے جسم و جاں کی تازگی ایسے پُر منظر چمن کے آشیاں کو چھوڑ کر پر ہو نزول رحمت باری جہاں ہر خشت کیسا جینا اُس زمین و آسمان کو چھوڑ کر تم کو کیا معلوم کیا ہے داغ ہجرت کی جلن تلخیاں ہی تلخیاں ہیں اس مکاں کو چھوڑ کر پوچھ اُن عشاق سے جو بے سروساماں گئے کیا کہیں آرام جاں ہے قادیان کو چھوڑ کر کیا ہی خوش قسمت ہو تم درویش کہتے ہیں تمہیں نام یہ پایا ہے پر تم نے جہاں کو چھوڑ کر ہیں تمہیں دشواریاں پر یہ نہیں جانے کا وقت تخت گاه مهدی آخر زمان کو چھوڑ کر بیٹھ کر صبر و سکوں سے کاٹ لو کچھ اور وقت تخت گاه مهدی آخر زمان کو چھوڑ کر بیٹھ کر صبر و سکوں سے کاٹ لو کچھ اور وقت کیا خبر قسمت میں کیا ہو گلستان کو چھوڑ کر آخرش فتح نمایاں ہے انہی کے نام پر جو یہاں بیٹھے رہیں گے سب جہاں کو چھوڑ کر ( مطبوعه الفضل ۲۹ ستمبر ۱۹۵۰ء)