مضامین بشیر (جلد 2) — Page 965
۹۶۵ مضامین بشیر کریں کہ قونصل کیا کام کرتے ہیں۔متنفرنج تو اسلام کی سلطنت کو پسند ہی نہیں کرتے۔میں نے ان لوگوں کو ضروری تجارت کے متعلق خط لکھے جواب تک سے دریغ فرمایا انا لله و انا اليه راجعون۔یونی ورسٹی کا جمع شدہ روپیہ دے دیں۔(ان دنوں میں مسلم یونی ورسٹی کے لئے بھاری رقم جمع ہوئی تھی۔) شادی غمی کی فضولی کا روپیہ دے دیں۔خود ترک فضولی کے بدلے روپیہ دے دیں۔ہندوستان میں سات کروڑ مسلمان ہیں فی کس ایک روپیہ ہی دے دیں۔مگر خود شعائر اسلام کو ہاتھ سے نہ دیں۔طرابلس کے غریب عرب جان دے رہے ہیں۔ترک میدانی جنگ چند روز جاری رکھیں قد افلح الــمـومـــون لـلـه العـزة وللرسول وللمومنين۔انا لننصر رسلنا والذين امنوا في الحيواة الدنيا۔سچ ہے حرفی بس است نورالدین از قادیان ۱۰ نومبر ۱۹۱۲ء حاشیہ۔شیعہ عالم شیخ عبد العلی ہروی کا ایک مضمون آج پیسہ اخبار میں نکلا ہے جس میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ صرف حج کے موقعہ پر قربانی ہے اور سوائے اس کے نہیں۔اس کے متعلق صرف اتنا ہی لکھنا کافی ہوگا کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اور صحابہ کرام اور آئمہ محدثین اور مجددین کا عمل اور امت محمدیہ کے تیرہ سو سال کا تعامل صرف عالم ہروی کے اجتہاد سے باطل نہیں ہوسکتا۔“ جو فتوی حاجی الحرمین حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا اوپر درج کیا گیا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ نے عید کی قربانیوں کو شعائر اسلامی کا ضروری حصہ قرار دیا ہے اور اسے بند کرنے کو خلاف اسلام فعل گردانا ہے جس کا خیال محض جلد بازی یا نادانی یا دینی جذبہ کی کمی یا فقدان کی وجہ سے پیدا ہوسکتا ہے۔باقی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے جو یہ فرمایا ہے کہ اس قسم کا فتویٰ دینے والے علماء آیت لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقوى مِنْكُمْ " کا مطلب نہیں سمجھے۔اس سے شریعت اسلامی کی ایک نہایت لطیف حکمت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جو یہ ہے کہ ہر عمل کا ایک جسم ہوتا ہے اور ایک روح جسم تو اس کی ظاہری شکل وصورت کا نام ہوتا ہے اور روح اس کے اندر کے مغز کا نام ہوتا ہے جس کی بناء پر اور جسے پیدا کرنے اور زندہ رکھنے کے لئے کسی عمل کا حکم دیا جاتا ہے۔مثلاً نماز کا جسم وہ ظاہری ارکان ( یعنی قیام اور رکوع اور سجدہ اور قعدہ اور ان کی مقررہ دعائیں ) ہیں جن کا اسلام نے حکم دیا ہے اور نماز کی روح وہ نیکی اور طہارت اور تقرب الی اللہ کا جذبہ ہے جسے خدا نماز کے ذریعہ