مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 964 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 964

مضامین بشیر ۱۰۸ ۹۶۴ علاوہ اس کے ۸ نومبر ۱۹۱۲ ء کو جو پبلک جلسہ لاہور میں زمیندار ٹرکش فنڈ کے متعلق ہوا تھا۔اس میں مولوی عبد العلی صاحب ہر وی شیعہ عالم نے آیت لَن يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ سے استدلال کر کے فتویٰ دیا تھا کہ اگر ترکوں کی اس مصیبت کے وقت میں قربانی نہ دی جائے اور اس کے عوض میں نقد روپیہ تر کی بھجوا دیا جائے تو جائز ہے۔اس کے متعلق بھی میں نے اپنے خط میں حضرت مولوی صاحب کو اطلاع کر دی تھی۔اس کے جواب میں حضرت مولوی صاحب کی جو چٹھی مجھے موصول ہوئی ہے وہ ذیل میں شائع کی جاتی ہے۔اس کے چھاپنے کی اس لئے بھی ضرورت محسوس ہوئی کہ جلدی میں جناب مولانا شبلی صاحب نعمانی اور مولوی محمد عبد اللہ صاحب ٹوٹکی کی طرف منسوب کر کے بھی ایک بے دلیل فتویٰ شائع ہوا ہے جس کی بناء پر بعض اخباروں نے کھلے طور پر قربانی نہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور لکھا ہے کہ یہ رقم ٹرکش ریلیف فنڈ میں دے دی جائے۔اس تحریک سے مسلمانوں کو بہت ابتلاء کا اندیشہ ہے اور شعائر اللہ کی بے حرمتی ہے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب قبلہ نے اپنی اس چٹھی میں نہ صرف قربانی کے ضروری ہونے پر فتوی دیا ہے بلکہ ایک حقیقی مصلح کے طور پر قوم کی مرض اور اس کا علاج دونوں بتا دیئے ہیں اور قربانی روکنے کی بجائے دیگر ہر رنگ میں چندہ دینے کی تحریک کی ہے۔خاکسار مرزا یعقوب بیگ ایل۔ایم۔ایس لاہور اصل خط مشتمل بر فتوی پیارے مرزا السلام عليكم ورحمة الله و بركاة ۱۴ نومبر ۱۹۱۲ء حضرت نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بڑی ضرورتیں تھیں۔خلفاء کے زمانہ میں سخت سے سخت ضرورتیں تھیں مگر قربانی ترک نہیں کی گئی۔اس کا ترک شیعہ مذہب کے بھی خلاف ہے۔باقی رہالَن يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا کا فرمان سو وہ صحیح ہے مگر جس طرح سے عالم شیعہ نے سمجھا ہے اس طرح نہیں۔قربانی ہی اصل ہے۔معلوم نہیں يَنَالُهُ التَّقْوی سے مولوی صاحب نے کیا مراد لیا ہے۔افسوس یہ سب قرآن نہ سمجھنے کا وبال ہے۔کیا مسلمانوں کے پاس اور مال ہی نہیں رہا کہ اب قربانی پر ہاتھ صاف کرنے لگے؟ اگر ایسے ہی مفلس ہیں تو نہ زکوۃ نہ قربانی نہ تعلیم پر روپیہ خرچ کریں چھٹی ہوئی الله الله ثم اللہ اللہ پہلے مکہ میں قربانیاں بند کریں۔ترک خود قربانی کو بند کریں۔قونسل کراچی۔بمبئی۔مدراس۔کلکتہ۔برما کیا کام کرتے ہیں۔۔۔آپ وطن اور زمیندار جیسے دانایان زمانہ سے دریافت