مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 906 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 906

مضامین بشیر ۹۰۶ ہزاروں باتوں میں انسان آزاد بھی ہے اور اس آزادی کی حقیقت کو بھی صرف خدا ہی جانتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ وَالْوَزْنُ يَوْمَينِ الْحَقِّ یعنی نیکی بدی کی عدالت کے متعلق حقیقی تر از وصرف خدا کا ترازو ہے جو قیامت کے دن قائم کیا جائے گا۔مگر میں اپنا مضمون چھوڑ گیا کیونکہ میرا موجودہ مضمون لوگوں کے اخلاق و عادات کی آزادی یا مجبوری کے متعلق نہیں بلکہ تقدیر کے اس حصہ کے متعلق ہے جو مختلف قسم کے حالات پیش آنے پر تدابیر انسانی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یعنی میرا اصل مضمون یہ ہے کہ کیا تقدیر کے قانون کا منشاء یہ ہے کہ جو کچھ ہونے والا ہے وہ بہر حال ہو کر رہتا ہے خواہ انسان کچھ کرے یا کہ تقدیر سے یہ مراد ہے کہ انسان خدا کے قانون خیر وشر کے ماتحت اپنے لئے اچھے یا برے نتائج پیدا کرنے میں صاحب اختیار ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ ظہور الدین مرحوم کی وفات یا اس کے صحیح اور غیر صحیح علاج کے نتیجہ کا سوال جو اس مضمون کا اصل محرک ہے، اس بحث سے تعلق رکھتا ہے۔سو جانا چاہئے کہ گوجیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے، تقدیر کوئی عجوبہ چیز نہیں ہے بلکہ وہ اس روز مرہ قانون کا نام ہے جو خدا تعالیٰ نے دنیا میں خواص الاشیاء یعنی قدر خیر و شر کی صورت میں جاری کر رکھا ہے۔یعنی جن اعمال اور جن چیزوں کا خدا تعالیٰ نے اچھا نتیجہ مقرر کر رکھا ہے وہ تقدیر خیر کے نیچے آتی ہیں اور اجن اعمال اور جن چیزوں کا خدا نے خراب نتیجہ مقرر کر رکھا ہے وہ تقدیر شر کا حصہ ہیں۔مثلاً یہ خدا کی تقدیر خیر ہے کہ دودھ پینے سے جسم میں طاقت پیدا ہوتی ہے یا کونین کھانے سے ملیریا کے کیڑے مرتے ہیں اور اس کے مقابل پر یہ خدا کی تقدیر شر ہے کہ مثلاً سنگریزے چبانے سے جسم میں کوئی طاقت نہیں آئے گی بلکہ الٹا نقصان ہوگا یا سنکھیا کھانے سے انسانی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔اسی طرح نہ صرف خواص الاشیاء کے متعلق بلکہ چیزوں کی مقدار کے استعمال کے متعلق بھی خدا نے ایک حکیمانہ قانون مقرر کر رکھا ہے۔مثلاً یہ خدا کی ایک تقدیر خیر ہے کہ سنکھیا ( جو درحقیقت ایک زہر ہے) اسے قلیل مقدار میں استعمال کرنا کئی بیماریوں کا علاج ہو جاتا ہے۔لیکن اس کے مقابل پر دودھ ( جو دراصل ایک مقوی غذا ہے ) اسے حد سے بڑھی ہوئی مقدار میں استعمال کرنا صحت کی تباہی بلکہ بعض صورتوں میں ہلاکت کا موجب ہوسکتا ہے۔اور اسی دنیا کی ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں چیزوں کا قیاس کیا جا سکتا ہے۔جو خدائی قضاء وقدر کے ماتحت زندگی کو بنانے اور مٹانے میں لگی ہوئی ہیں اور یہی اصول مذہبی اور روحانی میدان میں چلتا ہے کہ ایک بات قدر خیر کے ماتحت اخلاق کو ترقی دیتی اور روحانیت میں جلا پیدا کر دیتی ہے اور لاریب یہی وہ قانون قدر خیر وشر ہے جسے اسلام ہمارے ایمان کا حصہ بنانا چاہتا ہے تا کہ دنیا کو معلوم ہو کہ ہمارا خدا ایسا نہیں کہ دنیا کو پیدا کرنے کے بعد معطل ہو کر بیٹھ گیا ہو بلکہ وہ ایک حاکم و متصرف خدا ہے۔جس