مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 874 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 874

مضامین بشیر ۸۷۴ یا ان سے استعارہ کے طور پر روحانی مُردوں کا زندہ ہونا اور بے دین لوگوں کا دیندار ہو جانا مراد ہے جو کم و بیش ہر نبی کے زمانہ میں ہوتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ : اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ یعنی اے لوگو تم خدا کی آواز پر ضروری کان دھرا کرو اور اسی طرح رسول کی آواز پر بھی کان دھر و جبکہ وہ تمہیں اس صداقت کی طرف بلائے جو تمہاری مردہ روحوں کو 66 زندہ کرنے والی ہے۔“ اس آیت میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ جب کبھی خدا کے رسول کے متعلق زندہ کرنے کا لفظ آتا ہے تو اس سے لامحالہ روحانی طور پر زندہ کرنا مراد ہوتا ہے نہ کہ جسمانی طور پر زندہ کرنا اور تاریخ و حدیث میں بھی قطعاً کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے کسی جسمانی مُردے کا زندہ ہونا ثابت ہوتا ہو۔کون نہیں جانتا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے قریباً گیارہ لخت جگر آپ کی زندگی میں فوت ہوئے اور آپ کی دو بیویاں بھی آپ کی زندگی میں رخصت ہوئیں اور آپ کے سینکڑوں جانثار صحابی بھی آپ کی زندگی میں شہید ہو کر یا دوسری طرح فوت ہو کر خدا کے حضور پہنچے لیکن کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ جس سے یہ ثابت ہو کہ آپ نے کبھی ان میں سے کسی ایک فرد واحد کو بھی جسمانی لحاظ سے زندہ کیا ہو؟ تو کیا یہ ہم مسلمانوں کے لئے غیرت کا مقام نہیں کہ جو اقتداری معجزہ ہمارا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خاتم النبیین اور سید ولد آدم فداہ نفسی نہیں دکھا سکا ( کیونکہ ایسا معجزہ خدا کی سنت کے خلاف ہے ) اس کے متعلق نعوذ باللہ یہ خیال کیا جائے کہ یہ معجزہ حضرت عیسی یا کسی اور نبی یا بزرگ نے سینکڑوں کی تعداد میں دکھایا اور محض ہاتھ کے اشارہ سے قبر میں سوئے ہوئے لوگوں کو اٹھا اٹھا کر زندہ کرتے چلے گئے۔یقیناً یہ سب یا تو محض خوش عقیدگی کے قصے ہیں اور یا ان سے استعارے کے رنگ میں صرف روحانی مردوں کا زندہ ہونا مراد ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں اور پھر کیا اس قسم کا اعتراض کرنے والے صاحبان اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اگر حضرت عیسی نے واقعی اس طرح جسمانی مردے زندہ کئے ہوتے جس طرح کہ بظاہر انجیل میں مذکور ہے کہ ادھر حضرت عیسی نے اشارہ کیا اور ادھر قبرستانوں کے سینکڑوں مردے اٹھ کر ساتھ ہو لئے تو پھر ایسا صریح معجزہ دیکھ کر انہیں سارے یہودیوں نے کیوں نہ مان لیا اور کیوں ان کے ماننے والوں کی تعدا د صرف بارہ حواریوں تک محد و در ہی؟ حق یہ ہے کہ جوشان ایک روحانی مردہ کے زندہ ہونے میں ہے وہ بھلا ایک جسمانی مردہ کے