مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 871 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 871

۸۷۱ مضامین بشیر مردے کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے اور جنة اس اوڑھنی کو کہتے ہیں جو سر اور بدن کو ڈھانپتی ہے۔وغیرہ وغیرہ۔پس نہ صرف اس لفظ کی رُوٹ کے لحاظ سے بلکہ عربی محاورہ اور استعمال کے مطابق بھی جن کا لفظ تمام ان چیزوں پر بولا جا سکتا ہے جو یا تو اپنی بناوٹ کے لحاظ سے مخفی ہیں اور یا پھر وہ ایسے انسانوں پر بولا جا سکتا ہے جو بناوٹ کے لحاظ سے تو مخفی نہیں مگر اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر عوام الناس سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔لہذا جن کے لفظ کے اس وسیع مفہوم کے ماتحت ہر جگہ کے مناسب حال جن کی تشریح کرنی پڑے گی یعنی :- (۱) بعض جگہ جن کے لفظ سے ایسے روساء اور اکابر اور جبار لوگ مراد ہوں گے جو عوام الناس سے اختلاط نہیں رکھتے اور لوگوں سے جدا جدا رہتے ہیں۔جیسا کہ مثلاً قرآن شریف فرماتا ہے کہ :- يُمَعْشَرَ الْجِنِ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِنَ الْإِنْسِ دد یعنی اے بڑے لوگو ( جو اپنے آپ کو گویا انسانوں سے کوئی جدا گانہ جنس خیال کرتے ہو ) تم نے عام لوگوں کی کمزوری اور بے بسی سے بہت فائدہ اٹھایا ہے“۔ظاہر ہے کہ اس جگہ جن سے مراد بڑے لوگ یعنی رئیس اور اکابر اور جبار اور سرمایہ دار وغیرہ ہیں۔(۲) بعض جگہ جن سے ایسی قو میں مراد لینی ہوں گی جو جغرافیائی لحاظ سے ایسے علاقوں میں رہتی ہیں جو دنیا کے دوسرے حصوں سے کٹے ہوئے ہیں۔مثلاً قرآن شریف فرما تا ہے کہ: قُلْ أُوحِيَ إِلَى أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ ۱۳۸ یعنی اے رسول تو لوگوں سے کہہ دے کہ مجھے وحی الہی نے بتایا ہے کہ قرآنی تلاوت کو بعض ایسے قبیلوں کے لوگوں نے بھی سنا ہے جو دنیا سے کٹے ہوئے رہتے تھے اور انہوں نے قرآن کی تعریف کی ہے۔“ اس جگہ جن سے علیحدہ رہنے والی غیر معروف اور دور افتادہ تو میں مراد ہیں اور (۳) بعض جگہ جن سے مخفی ارواح مراد ہوں گی جیسا کہ دوسری جگہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ: كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَيْهِ د یعنی ابلیس مخفی روحوں میں سے ایک تھا جس نے آدم کے بارہ میں خدا کی نافرمانی کر کے فسق کا طریق اختیار کیا۔“