مضامین بشیر (جلد 2) — Page 867
۸۶۷ مضامین بشیر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی شادیاں اور طلاقیں ย کراچی کے ایک احمدی دوست خط کے ذریعہ دریافت کرتے ہیں کہ یہ جو بعض روایتوں میں ذکر آتا ہے کہ حضرت امام حسن " یا حضرت امام حسین نے اسی یا نوے شادیاں کی تھیں۔اس سے کیا مراد ہے؟ آیا ان کے لئے چار بیویوں کی حد بندی نہیں تھی اور اگر وہ ایک بیوی کو طلاق دے کر اس کی جگہ دوسری شادی کر لیتے تھے تو پھر اس کثرت کے ساتھ طلاق دینے میں کیا حکمت تھی ؟ خصوصاً جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دینے کو نا پسند فرمایا ہے۔رض رض اس سوال کے جواب میں یا د رکھنا چاہئے کہ یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے نواسے حضرت امام حسن سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ چھوٹے نوا سے امام حسین سے۔اور یہ درست ہے کہ بعض روایتوں میں حضرت امام حسن کی شادیوں کی تعداد نوے تک بیان ہوئی ہے اور اگر یہ مبالغہ بھی سمجھا جائے تو تب بھی اس میں شبہ نہیں کہ حضرت امام حسن نے کثرت کے ساتھ شادیاں کی تھیں اور اسی کثرت کے ساتھ طلاقیں بھی دیں لیکن یہ بات بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے کہ انہوں نے یہ ساری شادیاں ایک ہی وقت میں کی تھیں کیونکہ ایک ہی وقت میں چار سے زیادہ بیویوں کی اسلام اجازت نہیں دیتا یہ استثناء صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھی جو وہ بھی آخر میں آکر محدود ہوگئی۔باقی رہا طلاق دینے کا سوال ، سو گو یہ درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام حالات میں طلاق دینے کو پسند نہیں فرمایا لیکن یہ ہرگز درست نہیں کہ آپ نے ہر حال میں طلاق کو پسند نہیں فرمایا ہے بلکہ آپ نے صرف ایسی طلاق کو نا پسند کیا ہے جو نا واجب جوش میں آکر یا نفسانی جذبات کے ماتحت دی جائے۔ورنہ تقویٰ کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقی ضرورت کے وقت جائز غرض سے طلاق دینا ہرگز نا پسندیدہ نہیں بلکہ یہ تو اسلامی شریعت کے حکیمانہ علاجوں میں سے ایک علاج ہے جو خدا تعالیٰ نے خاص حالات کے لئے مقرر کر رکھا ہے اور صحیح احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ ایک دفعہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی ایک بیوی کو طلاق دی تھی جس کا نام امیمہ بنتہ الجون تھا ( بخاری کتاب الطلاق ) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کسی صورت میں بھی نعوذ باللہ ایک نا پسندیدہ فعل کے مرتکب نہیں ہو سکتے تھے۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ شریعت اسلامی نے طلاق کی اجازت دی ہے اور یہ بھی ایک