مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 863 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 863

۸۶۳ مضامین بشیر ایک دوست کے سوال کا جواب نبی۔رسول اور مُحدّث میں کیا فرق ہے ایک دوست جو غالباً جماعت احمدیہ میں شامل نہیں ہیں، خط کے ذریعہ دریافت کرتے ہیں کہ نبی اور رسول اور محدث میں کیا فرق ہے۔اور ان میں سے کس کو شریعت دی جاتی ہے۔اور کس کو نہیں دی جاتی ؟ اس سوال کے جواب میں مختصر طور پر یا درکھنا چاہئیے کہ نبی کا لفظ نباء سے نکلا ہے جس کے معنی خبر کے ہیں اور چونکہ عربی قاعدہ کے مطابق فعل کے مقابل پر اسم میں زیادہ شدت کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔اس لئے نبی کے معنے ایسے شخص کے ہوں گے جو کسی کی طرف سے کوئی بڑی خبر پاتا ہے یا زیادہ کثرت سے پاتا ہے لیکن اصطلاحی طور پر نبی کے مفہوم میں ذیل کی تین باتوں کا پایا جانا ضروری ہے۔(۱) اوّل یہ کہ اس کے ساتھ خدا کثرت سے کلام کرے۔(۲) دوسرے یہ کہ یہ خدائی کلام اہم امور غیبیہ پر مشتمل ہو۔(۳) تیسرے یہ کہ خدا اسے خود نبی کا نام دے۔تیسری شرط اس لئے ضروری ہے کہ اس بات کو صرف خدا ہی جان سکتا ہے کہ کسی شخص کے ساتھ اس کا مکالمہ و مخاطبہ اس حد کو پہنچ گیا ہے یا نہیں کہ اس کی وجہ سے وہ نبی کا نام پانے کا مستحق ہو جائے۔دوسری اصطلاح رسول کی ہے۔سو یہ لفظ چونکہ رسالت سے نکلا ہے جس کے معنی پیغام کے ہیں۔اس لئے رسول اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کی طرف سے کوئی پیغام لے کر آئے اور اصطلاحی طور پر رسول اس شخص کو کہتے ہیں جو خدا کی طرف سے دنیا کے نام ( یا دنیا کے کسی حصہ کے نام ) کوئی خاص پیغام لے کر آئے اور اس کے لئے دو شرطیں ضروری ہیں :- (۱) اول یہ کہ وہ خدا کی طرف سے کوئی خاص پیغام لانے کا مدعی ہو۔(۲) دوسرے یہ کہ اسے خدا کی طرف سے رسول کا نام دیا جائے۔کیونکہ اس بات کو صرف خدا ہی جانتا ہے کہ آیا کسی کا لایا ہوا پیغام اس نوعیت کا ہے کہ وہ اس کی وجہ سے رسول کہلانے کا حقدار سمجھا جائے۔ورنہ بعض اوقات عام مومنوں کی خوابوں یا الہاموں میں بھی خدائی اشارے یا خدائی پیغام شامل ہوتے ہیں مگر اس کی وجہ سے وہ رسول نہیں کہلا سکتے۔