مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 72 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 72

مضامین بشیر ۷۲ کو بھی بدل کر نئے اور بالکل غیر مانوس محاورے قائم کئے جا رہے ہیں۔اس ضمن میں پہلی مثال جو میں دینا چاہتا ہوں۔وہ مبارک باد کے لفظ سے تعلق رکھتی ہے۔یہ لفظ اردو زبان میں اس قدر کثیر الاستعمال اور متعارف ہے کہ مسلمانوں کا بچہ بچہ تو اسے جانتا ہی ہے۔غیر مسلموں یعنی ہندوؤں اور سکھوں میں بھی یہ لفظ ایسا عام فہم ہے کہ شہری ہندو اور سکھ تو الگ رہے۔دیہات کے سکھ اور ہندو بھی اس لفظ کو اچھی طرح سمجھتے اور اسے اپنی گفتگو میں کثرت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔مگر مسلمان مصنفوں اور خصوصاً مسلمان اخبار نویسوں نے اس سادہ اور عام فہم لفظ کو بھی بدل کر ایک ایسی صورت دے دی ہے۔جو نہ صرف غیر مسلموں کے لئے بالکل غیر مانوس ہے بلکہ بہت سے مسلمان کہلانے والے بھی اس لفظ کو نہیں سمجھتے۔اور کم از کم ثقیل اور غیر مانوس خیال کرتے ہیں۔میری مراد تبریک کے لفظ سے ہے۔جو کچھ عرصہ سے مبارکباد کے لفظ کی جگہ استعمال ہونا شروع ہو گیا ہے۔حالانکہ یہ لفظ صرف ثقیل اور غیر مانوس ہی نہیں بلکہ قرآنی محاورہ کے بھی سراسر خلاف ہے۔قرآن شریف نے اس لفظ کو فعل اور اسم فاعل کی صورت میں اٹھارہ جگہ استعمال کیا ہے۔اور ان اٹھارہ جگہوں میں سے ایک جگہ بھی باب تفعیل کی صورت میں استعمال نہیں کیا۔جس سے کہ لفظ تبریک تعلق رکھتا ہے بلکہ لازما ہر جگہ باب مفاعلہ کی صورت میں استعمال کیا ہے ، جس سے لفظ مبارکباد کا تعلق ہے۔مثلا سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔سُبْحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ۔۔۔اسی طرح سورہ انعام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَهُذَا كِتَب أَنْزَلْنَهُ مُبْرَك۔۔۔,, ان دونوں موقعوں پر اور اسی قسم کے باقی ماندہ سولہ موقعوں پر قرآن شریف نے بلا استثناء باب مفاعلہ استعمال کیا ہے۔اور کسی ایک جگہ بھی باب تفعیل استعمال نہیں کیا۔پھر نہ معلوم کیوں ہمارے دوست بلا وجہ باب مفاعلہ کو چھوڑ کر تبریک کے لفظ کے گرویدہ ہو رہے ہیں۔جو ثقیل بھی ہے اور غیر مانوس بھی اور قرآنی محاورہ کے خلاف بھی۔بے شک کبھی کبھی عربی زبان میں ”برک“ کا لفظ بھی مبارک باد دینے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اور لغت کے لحاظ سے ہم اسے غلط نہیں کہہ سکتے لیکن ایک زیادہ فصیح اور زیادہ مستعمل اور زیادہ مانوس لفظ کو چھوڑ کر جو قر آنی محاورہ کے بھی عین مطابق ہے۔ایک ثقیل اور دور افتادہ اور غیر مانوس لفظ کو اختیار کرنا جو قرآنی محاورہ کے بھی خلاف ہے، ادبی اور لسانی اصول کے لحاظ سے نہایت درجہ قابل اعتراض ہے۔مگر آج کل جسے دیکھو ہدیہ تبریک ہدیہ