مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 818 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 818

مضامین بشیر ΔΙΑ خلاف ہے۔اصول شریعت میں گہری نظر رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ اسلام میں تو ازن قائم کرنے کے اصول کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔بہت سی باتوں میں شریعت ایک بات کو اچھا قرار دے کر اسے ایک طرف اپنی تعلیم کا جزو بناتی ہے بلکہ اس کا حکم دیتی ہے لیکن دوسری طرف بعض حالات میں اس کے امکانی نقصانات کو بھی تسلیم کرتی ہے۔چنانچہ کون نہیں جانتا کہ نماز اور روزہ وغیرہ کتنی مبارک چیزیں ہیں مگر ہماری حکیمانہ شریعت نے ان بابرکت عبادتوں میں بھی دوسرے مصالح کے ماتحت کئی قسم کی بریکیں لگا رکھی ہیں۔مثلا نماز میں ساری رات جاگنے سے منع فرمایا ہے۔روزہ میں مسلسل نفلی صیام کو نا جائز قرار دیا ہے۔عورت کو اس بات سے روکا ہے کہ وہ خاوند کی اجازت کے بغیر کوئی نفلی روزہ رکھے وغیرہ وغیرہ اور نماز روزہ کا سوال تو الگ رہا بعض بظاہر نقصان رساں باتوں میں بھی اسلام نے اسی حکیمانہ توازن کو قائم کیا ہے۔مثلاً ایک طرف خدا نے خود سانپ کو پیدا کیا ہے اور دوسری طرف حدیث میں آتا ہے کہ اس جانور کو حرم تک میں پناہ نہ دی جائے اور اگر نماز میں نظر آ جائے تو نماز کو بھی ملتوی کر کے پہلے اس کا خاتمہ کیا جائے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر خدا نے سانپ کو مارنے کا ہی حکم دینا تھا تو پھر اسے پہلے پیدا ہی کیوں کیا ؟ اس کا یہی جواب ہے کہ جہاں اس کے پیدا کرنے میں بعض فوائد ہیں وہاں اس کے مارنے میں بھی بہت سے فوائد ہیں۔گویا دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہیں اور اس طرح ایک حکیمانہ توازن قائم کر دیا گیا ہے مگر یہ اس کی تفصیل کا موقعہ نہیں۔بہر حال اصولاً اس میں ہرگز کوئی اعتراض کی بات نہیں کہ مصلحت عامہ کے ماتحت ایک بات کی اجازت بھی دی جائے اور پھر اس کی بعض امکانی خرابیوں کی روک تھام کے لئے اس کے ساتھ مناسب شرطیں اور روکیں بھی لگا دی جائیں۔مثلاً اسی دولت کی تقسیم والے میدان میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف اسلام نے انفرادی حق ملکیت کو تسلیم کیا ہے لیکن دوسری طرف اس بات کی اجازت نہیں دی کہ کوئی باپ اپنی ساری جائیداد اپنے صرف ایک بچے کے نام پر منتقل کر کے چلا جائے کیونکہ اس میں نہ صرف اولاد میں نا واجب رقابت پیدا ہوتی ہے بلکہ دولت کی منصفانہ تقسیم میں بھی خلل واقع ہوتا ہے۔پس گو فاروقی صاحب نے میری بات کو صحیح رنگ میں پیش نہیں کیا مگر ان کا خیال اصولی رنگ میں بھی بہر حال غلط اور بے بنیاد ہے۔مگر حق یہ ہے کہ یہ دعویٰ باطل ہے کہ معاشرت کی موجودہ خرابیاں زمینداری یعنی لینڈ لارڈازم کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ خرابیاں کسی ایک وجہ سے نہیں ہیں بلکہ اس کی تہ میں سینکڑوں وجوہات بر سر کار ہیں۔جن میں سے بعض قانون کے نقص کی وجہ سے ہیں۔جیسا کہ دوسرے مذاہب کا حال ہے اور بعض عمل کے نقص کی وجہ سے ہیں جیسا کہ بدقسمتی سے اس زمانہ کے مسلمانوں کا