مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 817 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 817

MZ مضامین بشیر پھر فاروقی صاحب میرے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ عجیب تضاد ہے کہ ایک طرف وہ زمینداری کو اسلامی تعلیمات کے مطابق مانتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے بطن سے خرابیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں اور پھر ان خرابیوں کے ازالہ کے سوال کو الگ بھی سمجھتے ہیں۔“ ہائے افسوس میں نے یہ کہاں لکھا ہے ؟ فاروقی صاحب خود میرے منہ میں ایک بات ڈالتے ہیں اور پھر خود ہی اس کی تردید شروع فرما دیتے ہیں۔محترم فاروقی صاحب! میں نے تو یہ لکھا تھا کہ ”اگر رقبہ مملوکہ کی حد بندی نہ ہونے کی وجہ سے بعض خرابیاں پیدا ہوں تو۔۔۔ہمارے دوسرے لٹریچر میں اس سوال پر بھی کافی بحث آچکی ہے اب ایک تو فاروقی صاحب نے یہ غضب ڈھایا ہے کہ میں نے تو یہ فقرہ رقبہ مملوکہ کی حد بندی کے سوال کے تعلق میں لکھا تھا۔مگر وہ اس کا کا نشا بدل کر اسے زمینداری یعنی لینڈ لارڈ ازم کے سوال کے نیچے لے گئے ہیں۔حالانکہ فاروقی صاحب خوب جانتے ہیں کہ یہ دونو سوال ایک دوسرے سے بالکل جدا اور متغائر ہیں۔یعنی لینڈ لارڈ ازم ( جس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی زمین کسی دوسرے شخص کو کاشت پر دینا ) اور چیز ہے اور رقبہ مملوکہ کی حد بندی کا سوال بالکل اور ہے اور یہ ہرگز قرین انصاف نہیں کہ میں تو ایک بات رقبہ مملوکہ کی حد بندی کی بحث کے تعلق میں بیان کروں اور فاروقی صاحب اسے زمینداری یعنی لینڈ لارڈ ازم کے سوال کی طرف کھینچ کر لے جائیں اور پھر اسے منسوب کریں 66 ,, میری طرف پھر جیسا کہ اوپر کے اقتباس سے ظاہر ہے میں نے یہ فقرہ اگر“ کے لفظ کے ساتھ شروع کیا تھا اور علم کلام کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جو بات اگر “ کے لفظ کے ساتھ بیان کی جائے اس کے متعلق ضروری نہیں ہوتا کہ وہ لکھنے والے کے عقیدہ کا جزو ہو بلکہ بعض اوقات بحث کے سارے پہلوؤں پر نظر ڈالنے کی غرض سے ایک بات بیان کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ وسعت پیدا کرنے کے لئے اگر کا لفظ لگا دیا جاتا ہے لیکن فاروقی صاحب نے یہ دوسرا غضب ڈھایا کہ نہایت خاموشی سے ساتھ میرا یہ اگر بھی حذف کر گئے۔اس کے علاوہ میں نے اس فقرہ کے آخر میں صاف الفاظ میں لکھا تھا کہ ”ہمارے دوسرے لٹریچر میں اس سوال پر بھی کافی بحث آچکی ہے۔مگر فاروقی صاحب نے یہ حصہ چھوڑ کر اور صرف اوپر کا حصہ لے کر میرے بیان کو ہنسی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے اس پر میں اس کے سوا فاروقی صاحب سے کیا کہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے۔لیکن ان ساری باتوں کے قطع نظر فاروقی صاحب کا یہ کہنا کہ ایک طرف زمینداری کو اسلامی تعلیم کے مطابق مانا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے۔۔۔کہ اس کے بطن سے خرابیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔ان باتوں کو گو یا متضاد قرار دینے کے مترادف ہے۔مگر یہ اعتراض بھی فلسفہ شریعت کے