مضامین بشیر (جلد 2) — Page 62
مضامین بشیر ۶۲ ہاتھ روکے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کلام کو ان چونکا دینے والے الفاظ سے شروع کیا ہے کہ: انصر اخاک ظالماً او مظلوماً یعنی ہر حال میں اپنے بھائی کی امداد کو پہنچو خواہ وہ ظالم ہے یا کہ مظلوم۔“ اور صرف سوال ہونے پر یہ تشریح فرمائی ہے۔کہ ظالم بھائی کی امداد کس طرح ہونی چاہیئے اور کمال حکمت سے آپ نے ظالم کا لفظ پہلے رکھا ہے اور مظلوم کا بعد میں تا کہ اس طرف اشارہ فرمائیں کہ بعض لحاظ سے ظالم بھائی مظلوم بھائی کی نسبت بھی زیادہ قابل امداد ہوتا ہے۔کیونکہ جہاں مظلوم بھائی کی صرف دنیالٹ رہی ہوتی ہے۔وہاں ظالم بھائی کی روح اور اس کے اخلاق مٹ رہے ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ دانشمندوں کے نزدیک جسم کے نقصان سے روح اور اخلاق کا نقصان بہت زیادہ بھاری ہوتا ہے۔مگر یہ اعلیٰ ضابطہ اخلاق صرف اسلامی تعلیم کا مرہونِ منت ہے کیونکہ کسی اور مذہب نے یہ تعلیم نہیں دی۔دور نہ جاؤ گاندھی جی کو ہی لے لو کہ ہندوؤں میں گویا ایک عدیم المثال روحانی بزرگ بلکہ رشی اور اوتار خیال کئے جاتے ہیں اور بظاہر دیکھنے میں ان کا کلام بھی روحانی اصطلاحوں سے معمور نظر آتا ہے اور ان کی ہر بات میں روحانی طاقت کے مظاہروں کا ذکر ہوتا ہے مگر کیا یہ ایک تلخ حقیقت نہیں ہے کہ نو اکھلی کے چند سو مظلوم ہندوؤں کے لئے تو ان کی روح گداز ہوئی جاتی ہے اور وہ اتنا عرصہ گذر جانے کے باوجود اس علاقہ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔لیکن بہار کے لاکھوں ظالم ہندوؤں کی روحیں ان کی آنکھوں کے سامنے اپنے ظلم وستم کے وسیع میدان میں تڑپ رہی ہیں مگر گاندھی جی کے کانوں پر جوں تلک نہیں رینگتی اور انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ ظالم بھائی کے ہاتھ کو روکنا بھی میرے فرائض میں داخل ہے۔آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی نا کہ گاندھی جی کا فلسفہ مظلوم بھائی کی مدد تو سکھاتا ہے مگر ظالم بھائی کی مدد کی تعلیم نہیں دیتا۔ان کی آنکھ مظلوم بھائی کے جسم کو جلتا ہوا تو دیکھتی ہے مگر ظالم بھائی کی روح کے شعلوں کو نہیں دیکھ کتی۔بہر حال یہ صرف اسلام ہی کی مقدس تعلیم ہے کہ وہ دنیا میں ایسی اخوت قائم کرنا چاہتا ہے کہ جس میں ظالم و مظلوم کا امتیاز باقی نہیں رہتا اور ہر شخص کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے بھائی کی مدد کو پہنچے۔خواہ وہ بھائی ظالم ہو یا مظلوم۔ہاں یہ فرق ضرور ہو گا کہ اگر یہ بھائی مظلوم ہے تو اسے ظلم سے بچایا جائے گا لیکن اگر وہ ظالم ہے تو اس کے ظلم کے ہاتھ کو روکا جائے گا۔کیونکہ ایک صورت میں جسم پر حملہ ہوتا ہے اور دوسری میں روح پر۔خلاصہ کلام یہ کہ اسلام نے اخوت اسلامی کا وہ اعلیٰ معیار قائم کیا ہے کہ اس کی نظیر کسی اور قوم،