مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 692 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 692

مضامین بشیر ۶۹۲ بھی ضروری تھی کہ خالق فطرت نے مرد عورت کو اپنی تفصیلات میں علیحدہ علیحدہ دماغی قومی اور علیحدہ علیحدہ قلبی جذبات کے ساتھ پیدا کیا ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ دونوں کو ان کے اپنے اپنے دائرہ عمل میں کھڑا رکھ کر ان سے قومی ترقی میں بہترین خدمت کی جائے۔جس طرح ایک چوکور سوراخ کو ایک گول لکڑی پوری طرح بند نہیں کر سکتی اسی طرح نہ ایک مرد پوری طرح عورت کی جگہ لے سکتا ہے اور نہ ایک عورت کامل طور پر مرد کی قائم مقام بن سکتی ہے۔ہاں چونکہ دونوں میں ایک بڑا حصہ مشترک قومی اور مشترک جذبات کا رکھا گیا ہے۔اس لئے انسانیت کی کامل ترقی لازماً دونوں کے تعاون اور اتحاد عمل کے نتیجہ میں ہی مقدر ہے اور اسی حکیمانہ نظریہ کے ماتحت اسلام نے اپنے احکام جاری فرمائے ہیں۔تفصیلات اور مستثنیات کو الگ رکھتے ہوئے اسلام نے مرد کو عموماً سیاست اور قیام امن اور فرائض رزم گاہ کے ، مناسب تفویض کئے ہیں یہ گو یا فیلڈ کی ڈیوٹی ہے مگر کوئی فیلڈ ایک پختہ اور منظم ہیں (BASE) کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔اور بیس کا انچارج عورت کو مقرر کیا گیا ہے۔یعنی مسلمان بچوں کو بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ان کے دل اور دماغ اور جسم کو ان کے آئندہ فرائض کے لئے تیار کرنا یہ ایک بہت بڑا کام ہے اور یہی وجہ ہے کہ لڑکیوں کی اچھی تربیت پر جنہوں نے آگے جا کر قوم کی مائیں بننا ہوتا ہے اسلام نے انتہائی زور دیا ہے۔اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ جس طرح میدان جنگ کے زخمی سپاہی علاج معالجہ کے لئے ہیں میں واپس بھیج دیئے جاتے ہیں اسی طرح اسلام نے بھی زخمی مسلمانوں کی دیکھ بھال میں عورت کو نمایاں حصہ دیا ہے۔مگر افسوس ہے کہ موجودہ زمانہ میں عیسائی اقوام کی اندھی تقلید مسلمانوں میں بھی ایک گونا بغاوت کا رنگ پیدا کر رہی ہے اور مرد و عورت کی اندرونی حدود کو تو ڑ کر جو سرا سر حکمت پر مبنی ہیں بلا چے سمجھے عورت کو مرد کے دائرہ عمل میں داخل کیا جا رہا ہے۔یہ میلان یقیناً دونوں کے لئے سخت ضرر رساں ہے اور سب سے بڑھ کر قوم کے لئے تباہ کن ہے۔اور فطری طریق وہی ہے جو اسلام سکھاتا ہے جو ہر فریق کے حقوق اور ذمہ داریاں معین کر کے حکم دیتا ہے کہ اپنے اپنے دائرہ میں رہ کر اپنے اپنے حصہ کا رکو ترقی دو۔لیکن جو حصہ مشترکہ نوعیت رکھتا ہے اس میں دونوں مل کر کام کرو۔بہر حال مجھے خوشی ہے کہ محترمی مولوی ابو العطاء صاحب فاضل نے یہ مجموعہ مرتب کر کے ایک اہم قومی خدمت سر انجام دی ہے اور اب یہ قوم کا فرض ہے کہ اس رسالہ کو زیادہ سے زیادہ وسیع کر کے اس کے فائدہ کو محدود نہ رہنے دیں اور دوسری طرف مولوی صاحب کا فرض ہے کہ اس کی کتابت اور کا غذا اور طباعت کو ایسی دیدہ زیب صورت دیں کہ روح کے حسن کے ساتھ جسم کا حسن شامل ہو کر ہر جہت سے دلکش وجود پیدا کر دے۔( مطبوعه الفضل ۱۴ / اکتوبر ۱۹۴۹ء) 66