مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 56 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 56

مضامین بشیر اسلامی اخوت کا نظریہ بھائی یا اخی کے الفاظ کو ہر شخص جانتا ہے کیونکہ یہ ہمارے روزانہ استعمال کے الفاظ ہیں مگر چونکہ اکثر لوگوں میں غور کا مادہ کم ہوتا ہے۔اس لئے وہ ان الفاظ کی گہرائی میں نہیں جاتے۔بس صرف اتنا جانتے ہیں کہ ایک باپ یا ایک ماں کی اولاد ہونے کا نام بھائی ہے۔حالانکہ اخوت کا مفہوم اس سے بہت زیادہ وسیع اور بہت زیادہ عمیق ہے۔دراصل اخوت کے لئے تین باتوں کا ہونا ضروری ہے۔اول۔یہ کہ دو بھائی ایک منبع سے نکلی ہوئی دو ہستیاں ہوتی ہیں یعنی ایک درخت کی طرح ان کی جڑ تو ایک ہی ہوتی ہے مگر شاخیں کئی ہو سکتی ہیں۔دوم۔جب دو بھائیوں کی جڑ ایک ہوتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک درخت کی شاخوں کی طرح وہ بہر حال ہم رنگ اور ہم جنس بھی ہوتے ہیں۔سوم۔بھائی برابر کے حقوق رکھنے والی ہستیاں ہوتی ہیں یعنی ان میں سے کسی کو دوسرے پر حقوق کے معاملہ میں فوقیت حاصل نہیں ہوتی۔یہ تین چیزیں اخوت کے لئے گویا بنیادی شرائط کے طور پر ہیں اور جہاں بھی یہ شرائط پائی جائیں گی۔اخوت کا مفہوم قائم ہو جائے گا۔خواہ نسلی لحاظ سے بھائی کہلانے والے لوگ ایک نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے کئی قسم کی اخوت کو تسلیم کیا ہے۔مثلاً عرضی اخوت کے علاوہ جسے گویا اخوت نسبی کہنا چاہیئے اسلام نے رضاعت کی اخوت کو بھی تسلیم کیا ہے۔چنانچہ جب دو شخصوں نے ایک ہی عورت کا دودھ پیا ہو تو اسلامی تعلیم کی رو سے وہ رضاعی بھائی کہلاتے ہیں حالانکہ بسا اوقات ان کی نسل بالکل جدا ہوتی ہے اخوت کی یہ قسم اخوتِ رضاعی کہلاتی ہے۔اسی طرح اسلام نے ایک اخوتِ دینی قائم کی ہے۔یعنی ایک ہی شریعت اور ایک ہی امام کے ساتھ وابستہ ہونا۔اس حال میں بھی گویا منبع ایک ہی ہوتا ہے اور اس منبع سے نکلی ہوئی شاخیں ہم رنگ اور ہم جنس ہونے کے علاوہ مساویانہ حقوق بھی رکھتی ہیں۔اسی طرح ایک اخوت عہدی ہوتی ہے کہ جب دو یا دو سے زیادہ اشخاص با ہم عہد و پیمان کے ذریعہ ایک دوسرے کے بھائی بن جاتے ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ہجرت کے بعض مہاجرین و انصار کے درمیان اخوت کا عہد قائم کیا وغیرہ وغیرہ۔ان سب قسم کی اخوتوں کا مرکزی نقطہ وہی تین شرائط ہیں جو ہم اوپر بیان کر آئے ہیں یعنی