مضامین بشیر (جلد 2) — Page 667
مضامین بشیر گہرائیوں میں کوئی گونج پیدا کر سکے۔ورنہ ماعلينا الا البلاغ۔بالآخر میں حضرت مسیح ناصری کی بے باپ ولادت کے متعلق دو مختصر سے حوالے پیش کرتا ہوں۔تا اگر جناب مولوی محمد علی صاحب نہیں تو کم از کم کوئی اور بھٹکی ہوئی روح ہی ان سے روشنی حاصل کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : خلقه الله من غيراب۔" د یعنی خدا نے مسیح ناصری کو بے باپ کے پیدا کیا۔“ پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں اور دلیل دے کر فرماتے ہیں : من عقائدنا ان عيسى ويحى قد ولد اعلى طريق خرق العادة۔۔۔۔۔۔ناول " ما فعل لهذه الارادة هو خلق عيسى من غيراب بالقدرة المجردة فكان عيسى ارها صاً لنبينا وعلما النقل النبوة۔د یعنی یہ بات ہمارے عقائد میں داخل ہے کہ عیسی اور بیٹی دونوں معروف پیدائش کے طریق سے مختلف صورت میں پیدا ہوئے تھے۔( یعنی عیسی تو بے باپ کے پیدا ہوئے اور بیٹی ایک بہت بوڑھے باپ اور بانجھ ماں کے گھر پیدا ہوئے خدا تعالیٰ چونکہ بنی اسرائیل سے نبوت منتقل کر کے بنو اسمعیل کی طرف لانا چاہتا تھا۔اس لئے اس نے عیسی کو بغیر باپ کے محض اپنی قدرت کے زور سے پیدا کیا اور اس طرح عیسی علیہ السلام ہمارے نبی کریم ﷺ کے لئے ایک قبل از وقت ظاہر ہونے والی علامت بن گئے۔اور بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل کی طرف منتقل ہونے والی نبوت کا نشان قرار پائے۔“ اب دیکھو یہ حوالہ کتنا واضح اور کتنا زور دار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس جگہ اپنا کوئی رسمی خیال پیش نہیں فرماتے بلکہ اس خیال کو اپنے عقائد کا حصہ قرار دیتے ہیں اور پھر مجرد دعوی کے بیان کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس دعوی کی دلیل اور حکمت بھی بیان فرماتے ہیں۔اور وہ یہ کہ حضرت عیسی کا بے باپ کے پیدا ہونا خدا کی خاص تقدیروں میں سے ایک تقدیر تھا جس کے ذریعہ خدا تعالی آنحضرت ﷺ کی نبوت کے واسطے ایک نشان قائم کرنا چاہتا تھا۔اگر ایسا واضح اور مدلل اور پر حکمت عقیدہ بھی جو ایک مامور من اللہ نے ظاہر کیا ہے ایک عام شخص کی قیاس آرائی سے رد ہو سکتا ہے یہ دین جناب مولوی صاحب اور ان کے رفقاء کو مبارک ہو۔ہمیں اعتراف ہے کہ ہم اس آزاد خیالی سے محروم ہیں اور اس محرومی کو ہی اپنے لئے باعث برکت اور باعث عزت خیال تو کرتے ہیں۔