مضامین بشیر (جلد 2) — Page 545
۵۴۵ مضامین بشیر ہو کر مسلمان افراط و تفریط کے رستوں سے بچ سکتے ہیں۔معذور لوگوں کی ذمہ واری حکومت پر ہے لیکن اگر با وجودان ذرائع کے ملک کا کوئی حصہ بیماری یا بیکاری کی وجہ سے یا زیادہ کنبہ دار ہونے کے نتیجہ میں اپنی جائز ضروریات کو اپنی جائز آمدنی کے اندر اندر پورا نہ کر سکے تو اس کے متعلق اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ ایسے لوگوں کی اقل ضرورت جو کھانے اور کپڑے اور مکان سے تعلق رکھتی ہے اس کے پورا کرنے کی ذمہ واری حکومت پر ہے اور اس کا فرض ہے کہ اپنے ملکی محاصل سے ایسے لوگوں کی اقل بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں یہی ہوتا تھا۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جب عرب کے علاقہ بحرین کا رئیس مسلمان ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت بھجوائی کہ: افرِض عَلَى كُلِّ رَجُلٍ لَيْس لَهُ ارضٌ اَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ وَعبادة _ یعنی جن لوگوں کے پاس زمین نہیں ہے ان میں سے ہر شخص کو ملکی خزانہ میں سے چار درہم اور لباس گذارہ کے لئے دیا جائے۔“ اسی اصول کی طرف یہ قرآنی آیت اشارہ کرتی ہے کہ : - إِنَّ لَكَ الَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرَى وَأَنَّكَ لَا تَطْمَؤُا فِيهَا وَلَا تَضُحى د یعنی بچی بہشتی زندگی کی یہ علامت ہے کہ اے انسان! تو اس میں بھوکا نہ رہے اور نہ ہی ضروری لباس سے محروم ہو اور نہ ہی سردی سے ٹھٹھرے اور نہ ہی پیاس کی 66 تکلیف اٹھائے اور نہ ہی دھوپ کی شدت میں جلے۔“ پس ہر اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس بات کا انتظام کرے کہ ملک وقوم کا کوئی فردان اقل ضرورتوں کی وجہ سے تکلیف نہ اٹھائے جو نسل انسانی کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ جہاں تک ملکی دولت کی تقسیم کا سوال ہے اسلام نے اول تو قانون ورثہ اور قانون زکوہ اور قانونِ تجارت اور حرمت قمار کے ذریعہ ایسی مشینری قائم کر دی ہے کہ اسے اختیار کرنے کے نتیجہ میں ملکی دولت کبھی بھی عامۃ الناس کے ہاتھ سے نکل کر چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں جمع نہیں ہو سکتی اور اگر بعض استثنائی حادثات کی وجہ سے پھر بھی کوئی فرد یا خاندان زندگی کی اقل ضرورتوں سے محروم رہ جائے تو اس کے لئے اسلام اسی بات کی ہدایت فرماتا ہے کہ امیروں کی دولت پر مزید ٹیکس لگا کر غریبوں کی ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔کیونکہ ہر انسان کا جو زندگی کی جد و جہد میں کوتا ہی نہیں کرتا یہ بنیادی حق ہے