مضامین بشیر (جلد 2) — Page 522
مضامین بشیر ۵۲۲ کچے دھا گے کس طرح ٹوٹتے ہیں اس نازک دور میں مقامی جماعتوں کا فرض الفضل کے ربوہ نمبر میں میرا ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں میں نے یہ بیان کیا تھا کہ موجودہ امتحان کے نتیجہ میں جہاں بہت سے لوگوں نے خدا کے فضل سے ایمان اور اخلاص اور محبت اور قربانی میں ترقی کی ہے وہاں بعض لوگ کچے دھا گے ثابت ہو کر ٹوٹ بھی گئے ہیں۔اس پر بعض دوستوں نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کچے دھاگوں کے ٹوٹنے سے کیا مراد ہے اور جب کہ جماعت ایک بٹے ہوئے رسہ کا رنگ رکھتی ہے تو پھر اس رسہ کے دھاگوں پر الگ الگ بوجھ پڑنا اور ان دھاگوں کا ٹوٹنا جب کہ خودرسہ سلامت ہے کیا معنی رکھتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سوال کرنے والے دوستوں نے اس معاملہ کی حقیقت پر غور نہیں کیا ورنہ یہ بات بالکل صاف ہے۔بے شک جماعت ایک رسہ کا حکم رکھتی ہے اور بے شک افراد جماعت ان دھاگوں کا حکم رکھتے ہیں جن کے ملنے سے رسہ بنتا ہے مگر پھر بھی خدائی قانون اسی طرح پر واقع ہوا ہے کہ امتحانوں اور ابتلاؤں کے غیر معمولی دباؤ کے وقت جہاں رسے پر مجموعی بوجھ پڑتا ہے وہاں ہر دھا گے پر بھی لازماً اس بوجھ اور دباؤ کا اثر پہنچتا ہے جس کا طبعی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زیادہ دباؤ کے وقت کمزور دھا گے ٹوٹنے شروع ہو جاتے ہیں حالانکہ رسہ بحیثیت مجموعی سلامت رہتا ہے۔دراصل اس قسم کے غیر معمولی حالات میں وہی دھا گے ٹوٹنے سے بچتے ہیں جو یا تو اپنی ذات میں غیر معمولی طور پر مضبوط ہوتے ہیں اور اس لئے وہ ہر دباؤ کو برداشت کرنے کے بعد بھی سلامت رہتے ہیں اور یا وہ دوسرے دھاگوں کے ساتھ اس طرح لیٹے ہوئے ہوتے ہیں کہ اپنی ذات میں کمزور ہونے کے باوجو د دوسروں کا سہارا ان کے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔مثلاً اگر ایک شخص اپنی ذات میں کمزور ہے اور اتنا پختہ ایمان نہیں رکھتا جو ابتلاء کے وقت میں اکیلا سلامت رہنے کے قابل ہو مگر اس کے خاندان یا اس کی سوسائٹی کے دوسرے افراد جن سے وہ گھرا ہوا ہے پختہ اور مضبوط ایمان کے لوگ ہیں تو ایسا شخص اپنی ذات میں کمزور ہونے کے باوجود اپنے ماحول کی مضبوطی کی وجہ سے امتحان کے