مضامین بشیر (جلد 2) — Page 520
مضامین بشیر ۵۲۰ سب ایک جیسے نہیں جو مظالم ۱۹۴۰ء کے فسادات میں مشرقی پنجاب کے سکھوں نے مسلمانوں پر کئے وہ پنجاب کی تاریخ کا ایک کھلا ہوا خونی ورق ہیں۔جس کی تفصیل میں اس جگہ جانے کی ضرورت نہیں لیکن ہر قوم کے سارے افراد ایک جیسے نہیں ہوا کرتے اور جس طرح نیک لوگوں کی جماعت میں کبھی کوئی بد بھی پیدا ہو جاتا ہے ، اسی طرح ظالم لوگوں کے گروہ میں کبھی کبھی کوئی شریف آدمی نکل آتا ہے۔چنانچہ حال ہی میں مجھے قادیان کے ایک قریب کے گاؤں کے سکھ زمیندار کی طرف سے یہ خط ملا ہے جو میں نام ظاہر کرنے کے بغیر درج ذیل کرتا ہوں : بخدمت حضرت میاں صاحب جی آداب عرض ہے خدا آپ کو خوش رکھے ہم سب خاندان آپ کے سب خاندان کو بہت بہت رات دن یاد کرتے ہیں۔پر ماتما وہ دن جلد لائے کہ ہم لوگ پھر آپ کے درشن کریں۔آپ کا خط مل گیا تھا ( یہ خط میں نے ان کے پہلے خط کے جواب میں لکھا تھا) آپ کی مہربانی کے ہم بہت مشکور ہیں۔ہم اپنے دونوں چاہ میں بجلی کی موٹر میں لگا رہے ہیں۔موٹریں تو لگا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ آپ کو بھی یاد کرتے ہیں کہ آپ اگر یہاں ہوتے تو پھر آپ کا بھی مشورہ حاصل کر کے فائدہ حاصل کرتے۔اچھا پر ما تما جلد یہ مصیبتوں کے دن دور کر دے اور ہم پھر پہلے کی طرح ہنسی خوشی ملیں۔میرے بچے بچیاں بہت یاد کر تے ہیں اور جس دن آپ کا خط آیا ہم سب خاندان کو اس دن عید کے چاند کی طرح خوشی ہوئی اور سب شوق سے سنتے اور پڑھتے تھے۔خدا آپ کو جلد لائے تا کہ ہم لوگ درشن کر سکیں اور ہم کو آپ دعاؤں میں بھی یا درکھیں کہ پر ماتما ہمارے سب کام ٹھیک ٹھیک کر دے۔ہم لوگ آپ کے احسانوں کے بہت مشکور ہیں۔آپ کا تابعدار 66 یہ لوگ تو خیر شریف تھے اور تعلقات رکھتے تھے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ جنون کا ابتدائی طوفان گزرجانے کے بعد بعض اشد مخالفوں کے دلوں میں بھی کچھ بے چینی اور ردعمل والی کیفیت پیدا ہو رہی