مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 513 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 513

۵۱۳ مضامین بشیر پس جماعت کی یہ ہجرت دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک پیشگوئی کو پورا کرنے والی اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔۳۔اس نشان کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لئے ایک امتحان مہیا کر دیا ہے کیونکہ یہ بھی خدا کی قدیم سنت ہے کہ وہ اپنی جماعتوں کا مشکلات اور ابتلاؤں کے ذریعہ سے امتحان لیا کرتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ صحابہ کے متعلق فرماتا ہے أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ] یعنی کیا مومن اس بات پر تسلی پا کر بیٹھ گئے ہیں کہ وہ صرف اتنی بات کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کا امتحان نہیں لیا جائے گا اور یہ قرآنی آیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی الہاما نازل ہو چکی ہے۔پس ضروری تھا کہ جماعت احمد یہ بھی ایک بھاری امتحان میں ڈالی جاتی تا کہ یہ امتحان بھی اس کی صداقت کی دلیل بنتا۔۴۔اس نشان کا چوتھا پہلو یہ تھا کہ با وجود اتنے بھاری امتحان کے اللہ تعالیٰ نے اس قیامت خیز طوفان میں بھی جماعت کو حقیقی انتشار سے بچا کر اس کے شیرازہ کو حیرت انگیز رنگ میں قائم رکھا ہے۔مجھے تو یہ منظر یوں نظر آتا ہے کہ گویا ایک وسیع وادی میں بھیڑوں کا ایک بھاری گلہ جمع تھا جو اطمینان اور امن کی حالت میں ادھر ادھر چلتا پھرتا تھا مگر اچانک اس گلہ پر چاروں طرف سے درندوں نے حملہ کر دیا اور یہ بھیڑ میں ادھر ادھر اس طرح منتشر اور پراگندہ ہو گئیں کہ آن کی آن میں ساری وادی خالی نظر آنے لگی۔لیکن جب ساتھ کی پہاڑی پر چڑھ کر دوسری طرف کی وادی پر نگاہ ڈالی گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ ساری بھیڑیں جو چاروں طرف منتشر ہو کر بظاہر ختم شدہ نظر آتی تھیں اس نئی وادی میں پھر اکٹھی ہو کر اپنے گلہ بان کی نگرانی میں جمع ہو چکی ہیں۔گویا بجلی کی چمک کی طرح ایک حملہ ہوا اور اس حملہ کے نتیجہ میں ایک ایک بھیٹر منتشر ہو کر نظروں سے غائب ہو گئی لیکن آنکھ جھپکتے ہی یہ نظارہ نظر آیا کہ یہ ساری بھیڑیں ساتھ کی وادی میں پھر اسی طرح جمع ہو کر نئی وادی کی زینت بن رہی ہیں۔یہ ایک غیر معمولی نشان تھا جو خدا نے جماعت احمدیہ کی تائید ونصرت میں دکھایا۔۔اس نشان کا پانچواں پہلو یہ ہے کہ اس امتحان کے نتیجہ میں جماعت کے ایک کثیر حصہ نے خدا کے فضل سے اخلاص اور قربانی میں نمایاں ترقی کی ہے۔گویا گزشتہ فسادات کے زلزلہ نے ان کو بیدار کر کے پہلے سے بھی زیادہ چوکس اور خدمت دین کے لئے زیادہ مستعد بنا دیا ہے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایسے لوگوں کی تعداد جماعت میں کیا نسبت رکھتی ہے لیکن یقیناً یہ تعداد اتنی معتد بہ ہے کہ ان کی