مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 431 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 431

۴۳۱ مضامین بشیر یعنی ایسے ذرائع کو اختیار کرنا جن کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کی نسل زیادہ سے زیادہ ترقی کر سکے اور وہ بڑی سرعت کے ساتھ ایک سے دو اور دو سے چار اور چار سے آٹھ ہوتے جائیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کے الفاظ ہیں : با برگ وبار ہو دیں۔اک سے ہزار ہوویں۔مجھے اپنے اس مضمون میں صرف مؤخر الذکر ذریعہ ترقی کے متعلق کچھ عرض کرنا ہے۔کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے دوست اس کی طرف سے کچھ غافل ہوتے جارہے ہیں۔میری یہ بات شاید بعض لوگوں کو بجو بہ محسوس ہو کیونکہ وہ خیال کر سکتے ہیں کہ اولا د تو ایک طبعی فعل ہے اس میں کسی کے غافل ہونے یا نہ ہونے کا کیا دخل ہو سکتا ہے مگر یہ خیال درست نہیں۔انسان کی توجہ کا اثر لازماً اس کے اعمال پر پڑتا ہے اور جو قوم اس نکتہ کو نہ بجھتی ہو یا کم از کم اس کی قدر کو نہ پہچانتی ہو کہ نسل کی ترقی میں کتنی برکت ہے تو آہستہ آہستہ اس کے مزاج پر اس ذہنیت کا ایسا نفسیاتی اثر پڑتا ہے کہ وہ بالآخر زیادہ اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتی اور موجودہ زمانہ میں تو میں دیکھتا ہوں کہ ایک طبقہ پر یورپ کے اس فرسودہ فلسفہ کا بھی اثر پڑ رہا ہے کہ زیادہ اولاد پیدا نہ کرو کیونکہ اس کے نتیجہ میں افلاس پیدا ہوتا ہے اور اولاد اچھی تربیت سے محروم ہو جاتی ہے حالانکہ یہ وہ فاسد نظر یہ ہے کہ جسے ہمارا علیم وقد بر خدا نام لے کر ڑد کرتا اور خصوصیت سے ناجائز قرار دیتا ہے چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے : وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًاO ۱۲۴ یعنی اپنی اولادکو ( خواہ وہ موجود ہے یا ہونے والی ہے ) افلاس اور غربت کی وجہ سے قتل نہ کرو۔کیا تم اس نکتہ کو بھول جاؤ گے کہ تمہاری اولاد کو اور خود تمہیں بھی رزق دینے والے تو ہم ہیں۔پس اس طریق سے پر ہیز کرو اور یاد رکھو کہ اولاد کو قتل کرنا خدا کی نظر میں ایک بھاری خطا ہے۔خطا کے لفظ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ یه فعل صرف گناہ ہی نہیں بلکہ خود تمہاری قومی ترقی کے لئے بھی ضرر رساں اور مہلک ہے۔بیشک حدیث میں عزل یعنی برتھ کنٹرول کے جواز کے متعلق کچھ اشارہ پایا جاتا ہے۔مگر کوئی سچی حدیث قرآن کے مخالف نہیں ہو سکتی۔پس اس قرآنی آیت کی روشنی میں اس حدیث کے یہی معنی سمجھے جائیں گے کہ افلاس کے خطرہ کی وجہ سے تو بہر حال برتھ کنٹرول جائز نہیں ہاں طبی ضرورت کے ماتحت جب کہ ماں کی جان کا خطرہ ہو وغیرہ ذالک تو وقتی طور پر کنٹرول اختیار کیا جاسکتا ہے مگر پھر بھی پوری حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عزل کے طریق کو بالعموم پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا اور اب تو مغربی ممالک کی عیسائی قومیں بھی اس معاملہ میں اپنی غلطی محسوس کر کے کثرت اولاد کا پر چار کر رہی ہیں۔