مضامین بشیر (جلد 2) — Page 23
۲۳ مضامین بشیر چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت علی حضرت فاطمہ سے خفا ہو کر مسجد نبوی کے گوشہ میں جا کر بیٹھ گئے۔جہاں خاک اور گرد کی وجہ سے ان کا سارا جسم مٹی سے ڈھک گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ ان کی تلاش میں آئے اور انہیں مسجد میں سوئے ہوئے پا کر پیار کے ساتھ یہ کہتے ہوئے جگایا کہ اے ابوتراب ابوتراب! اس گرد میں کہاں لیٹے ہوا ٹھو۔اور روایت آتی ہے کہ اس کے بعد سے حضرت علی کا نام ابوتراب مشہور ہو گیا جس کے معنی ہیں ”مٹی کا باپ “ یا ”مٹی کا مادھو۔تو کیا اب اس روایت کی بنا پر ہمارے مخالف یہ اعتراض بھی کریں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چا زاد اور داماد کا نام مٹی کا باپ تھا۔اسی طرح ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی کے لڑکے ابو عمر نامی نے ایک سرخ رنگ کی چڑیا پال رکھی تھی جسے وہ ہر وقت اپنے ساتھ لئے پھرتا تھا۔ایک دفعہ جب اس کی یہ چڑیا مرگئی اور وہ لڑکا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خالی ہاتھ آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیار سے مخاطب کرتے ہوئے فرما یا يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ( یعنی اے ابو عمیر تمہاری وہ نغیر یعنی چڑیا کدھر گئی (نغیر عربی میں سرخ چڑیا کو کہتے ہیں ) گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار کا رنگ پیدا کرنے اور وزن ملانے کی خاطر ابو عمر نام کو بدل کر ابو عمیر کر دیا۔مگر کوئی شریف انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کو اعتراض کا نشانہ نہیں بنا تا بلکہ اس سے آپ کے جذبہ محبت اور بے تکلفانہ انداز کا سبق حاصل کیا جاتا ہے۔تو کیا وجہ ہے کہ اگر اسی قسم کا کوئی معصومانہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں ہو ( اور ایسے بے تکلفی کے واقعات دنیا کے ہر گھر میں ہوتے ہیں ) تو اس کی وجہ سے آپ کو اعتراض کا نشانہ بنایا جائے۔دوسرا اعتراض سیرۃ المہدی جلد اول کی روایت نمبر ۵ کی بنا پر ہے۔جس میں یہ ذکر ہے کہ ایک دفعہ کسی غیر معروف عورت نے حضرت ام المومنین اطال اللہ ظلہا کے سامنے یہ ذکر کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بچپن میں ایک عورت نے سندھی“ کہہ کر پکارا تھا اور اس روایت پر بھی اوپر کی روایت کی طرح استہزاء کا طریق اختیار کیا جاتا ہے کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام ہی یہ تھا۔سواس اعتراض کا مفصل جواب سیرۃ المہدی حصہ اول کے ایڈیشن دوم کی اسی روایت میں ذکر گزر چکا ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اول تو یہ روایت ایک غیر معروف غیر معلوم الاسم اجنبی عورت کی ہے اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس نے سچ کہا یا جھوٹ اس کے معلومات درست تھے یا غلط۔دوسرے سندھی کا لفظ ایک ہندی لفظ ہے جس کے معنی جوڑ یا ملاپ یا اتصال“ کے ہیں۔چنانچہ سندھی ویلا کے