مضامین بشیر (جلد 2) — Page 256
مضامین بشیر ۲۵۶ جبکہ وہ غصہ سے مغلوب ہو رہا ہو بلکہ اسے چاہئے کہ اس وقت تک انتظار کرے کہ اس کا غصہ دور ہو جائے خواہ غصہ کسی وجہ سے پیدا ہوا ہو۔“ 66 عدل کے رستہ میں ایک بھاری روک رشوت بھی ہے جو آج کل بدقسمتی سے بہت سے بے اصول حاکموں کے کام پر ایک خطرناک دھبہ ثابت ہو رہی ہے۔اس کے متعلق آنحضرت یہ فرماتے ہیں : ۴۹ الرَّاشِي وَ الْمُرْتَشِى كِلَاهُمَا فِي النَّارِ - دو یعنی رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دو نو آگ میں ہیں۔آنحضرت ﷺ کے یہ ہیبت ناک الفاظ کسی تشریح کے محتاج نہیں۔دراصل رشوت ایک ایسا گندہ خلق ہے کہ شریعت اسلامی پر ہی حصر نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور ہر ملک اور ہر قانون نے اسے ناجائز قرار دیا ہے۔کیونکہ اس سے عدل وانصاف کے رستہ میں ایسا رخنہ پیدا ہو جاتا ہے جو نہ صرف لوگوں کے حقوق کو بلکہ اس اعتماد کو بھی جو انہیں حکومت پر ہونا چاہئے ، تباہ کر کے رکھ دیتا ہے اور یاد رکھنا چاہئے کہ رشوت صرف نا جائز نقدی قبول کرنے کو ہی نہیں کہتے ، بلکہ ہر وہ چیز اور ہر وہ فائدہ جسے شرعاً یا قانو نا کسی کو حاصل کرنے کا حق نہیں اور جس کے نتیجہ میں حکومت کا کوئی حق مار کر ا فراد کو دے دیا جاتا ہے ، یا ایک قوم کا حق مار کر دوسری قوم کو دے دیا جاتا ہے ، یا ایک فرد کا حق مار کر دوسرے فرد کو دے دیا جاتا ہے وہ سب رشوت میں داخل ہے اور ہمارے آقا علیہ اس قسم کی رشوت دینے والے اور لینے والے دونو کو في النَّارِ قرار دیتے ہیں۔یہ ایک بہت بڑا انتباہ ہے بشرطیکہ کوئی خدا کا بندہ اس انتباہ سے ڈرنے کے لئے تیار ہو۔عدل کے قیام کے لئے اسلام ایک اور زریں ہدایت بھی دیتا ہے اور وہ یہ کہ اس کے حاکم کو ایک ایسے معاملہ میں جو ایک سے زیادہ فریق کے ساتھ تعلق رکھتا ہے صرف ایک فریق کی بات سن کر رائے قائم نہیں کرنی چاہئے جب تک کہ سارے متعلقہ فریقین کی بات نہ سن لی جائے۔چنانچہ ہمارے مقدس آقا آنحضرت علیہ فرماتے ہیں: إذا تقاضى إِلَيكَ رَجُلانِ فَلا تَقض لِلأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الآخَرِ فَسَوفَ تَدرى كيف تَقُضِی یعنی آپ نے حضرت علی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب تمہارے پاس دو آدمی جھگڑا کر تے ہوئے پہنچیں تو ایک آدمی کی بات سُن کر رائے قائم کرنے اور فیصلہ کرنے کی طرف جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تم دوسرے شخص کی بھی بات نہ سن لو۔اگر تم اس اصول پر عمل کرو گے تو تمہیں بچے فیصلوں کی طرف