مضامین بشیر (جلد 2) — Page 242
مضامین بشیر ۲۴۲ جمع بین الصلواتین کے مسئلہ میں مولوی محمد دین صاحب کی تمہ روایت امام کی اتباع کا پہلو بہر حال مقدم ہے اس سے قبل میرے ذریعہ مکرم مولوی محمد دین صاحب بی۔اے سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی ایک روایت جمع بین الصلاتین کے مسئلہ کے متعلق الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔مکرم مولوی صاحب کی اس روایت پر میں نے مولوی صاحب موصوف پر دو سوالات کئے تھے۔جس کا جواب انہوں نے ذیل کے خط میں ارسال فرمایا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اب مولوی صاحب کی روایت پوری طرح مکمل ہے جس سے اس مسئلہ کے سارے پہلوؤں پر روشنی پڑ جاتی ہے جیسا کہ میں اپنے سابقہ نوٹ میں لکھ چکا ہوں مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ہیں اور کئی سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہ چکے ہیں۔(خاکسار :۔مرزا بشیر احمد رتن باغ لاہور ۷/۶/۲۸) مکرمی مخدومی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گرامی نامہ ملا۔مجھے افسوس ہے کہ میں آں مخدوم کے ارشاد کی تعمیل میں پوری وضاحت سے قاصر رہا ہوں۔گذارش ہے کہ جو روایت میں نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جمع بین الصلوتین کے مسئلہ میں فتویٰ اور تعامل کے متعلق بھجوائی تھی۔اس کے متعلق آپ نے مجھ پر دوسوال کئے ہیں۔ایک تو یہ کہ کیا میں نے خود اپنے کانوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فتویٰ سنا تھا کہ جمع بین الصلاتین کی صورت میں اگر کوئی شخص بعد کی نماز میں پہنچے تو پھر بھی امام کے ساتھ شامل ہو جائے اور اپنی چھوڑی ہوئی نماز بعد میں پڑھ لے۔اور دوسرے یہ کہ کیا اس صورت میں بھی اس فتویٰ پر عمل ہوتا تھا کہ ایک بعد میں آنے والے شخص