مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 225 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 225

۲۲۵ مضامین بشیر گیا۔اور اس کے مقابل پر جو مظالم مغربی پنجاب میں سکھوں یا ہندوؤں پر ہوئے وہ بھی بے شک قابل افسوس ہیں مگر اکثر صورتوں میں وہ ایک وقتی اور مقامی جوش کا نتیجہ تھے۔جس میں کسی قسم کی سازش یا پہلے سے سوچی ہوئی سکیم کا دخل نہیں تھا۔اور یہ وہ بھاری فرق ہے جس کے ذریعہ دونوں قوموں کی نسبتی ذمہ داری آسانی کے ساتھ معین کی جاسکتی۔پبلک فسادوں میں حکام کی جانبدارانہ شرکت ایک بدترین داغ ہے (چہارم) چوتھی بات یہ دیکھنے والی ہے کہ ان فسادات میں دونوں طرف کے حکام اور خصوصاً پولیس اور ملٹری کا کہاں تک دخل رہا ہے۔فسادات تو ہر ملک اور ہر زمانہ میں ہوتے رہتے ہیں۔کبھی ان فسادات کا باعث نسلی اختلاف بن جاتا ہے اور کبھی سیاسی اختلاف ان کا موجب ہو جاتا ہے۔اور کبھی مذہبی اختلاف کو فساد کا بہانہ بنا لیا جاتا ہے۔مگر ہر متمدن ملک میں جہاں کم از کم انصاف کی نمائش کی جاتی ہو، حکومت کے افسر اس قسم کے پبلک فسادوں میں غیر جانبدار رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہر حال میں غیر جانبدار رہے۔کیونکہ حکومت کی بنیادی غرض وغایت ملک میں امن قائم کرنا ہوتی ہے اور اس کا یہ اولین فرض ہے کہ رعایا کے مختلف طبقوں میں عدل وانصاف کے تر از وکو قائم رکھے دراصل حاکم باپ کے حکم میں ہوتا ہے اور پبلک اولاد کے حکم میں ہوتی ہے۔اور کون باپ ہے جو اپنے ایک لڑکے کو غیر سمجھے اور ایک کو تو اپنی گود میں بٹھائے اور دوسرے کو لٹھ دکھائے۔اور جو شخص حکومت کا نمائندہ ہو کر اور امن کا محافظ بن کر پھر فساد میں حصہ لیتا اور پبلک کے مختلف طبقوں میں جانبداری کا رویہ اختیار کرتا ہے ، وہ انسانیت کا بدترین دشمن ہے کیونکہ گو وہ بھیٹروں کا گڈریا مقرر کیا گیا تھا۔لیکن اس نے بھیڑیا بن کر اپنے ہی گلہ کی بھیڑوں کو مارنا شروع کر دیا۔مگر افسوس ہے کہ گزشتہ فسادات میں ہمارے بدقسمت ملک کو یہ سیاہ داغ دیکھنا بھی نصیب تھا۔یقیناً پاکستان اور ہندوستان میں سے جس ملک میں بھی یہ گندی کھیل کھیلی گئی ہے اور جس ملک کے افسروں نے خودشوریدہ سر پبلک کے ساتھ ہو کر دوسرے فریق کے بے بس افراد کو مظالم کا نشانہ بنایا ہے، وہ ان فسادات کے مجرموں میں سے مجرم نمبرا ہے ، جس کی ذمہ داری سے وہ تا قیامت بری نہیں سمجھا جا سکتا۔پس ذمہ داری کی تعیین کے لئے حکام کے شرکت کے پہلو کو دیکھنا بھی ضروری ہے اور اس پہلو کا مطالعہ ایک غیر متعصب انسان کے لئے اس بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتا کہ جس قسم کی بر ملا اور وسیع شرکت مشرقی پنجاب کی پولیس اور ملٹری نے گزشتہ فسادات میں کی ہے، اس کے ساتھ مغربی پنجاب کے حالات کو کوئی نسبت نہیں۔میں ہر گز یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ مشرقی پنجاب کے سب پولیس اور