مضامین بشیر (جلد 2) — Page 169
۱۶۹ مضامین بشیر ہے کہ اختلاف امتی رحمة۔۔یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔مگر پھر بھی علمی تحقیق کی رو سے اصل فتویٰ کا پتہ لگا نا ضروری ہے۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ اصل مسئلہ سے تعلق رکھتی ہے۔جہاں تک میں نے اس سوال کے متعلق سوچا ہے۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہونے والا فتویٰ زیادہ صحیح پختہ اور اصول اسلام کے زیادہ مطابق نظر آتا ہے۔اور میرے اس خیال کے دلائل یہ ہیں :۔(۱) اسلام امام کی اتباع کے سوال کو اتنی اہمیت دیتا ہے اور اسے قومی اور انفرادی ترقی کے لئے ایسا ضروری قرار دیتا ہے کہ اس کے مقابل پر کسی دوسرے استدلالی مسئلہ کو جو امہات مسائل میں سے نہیں قطعا کوئی حیثیت حاصل نہیں۔پس جہاں امام کی اتباع اور کسی دوسرے غیر اصولی یا جزوی مسئلہ کا ٹکراؤ پیدا ہو گا۔وہاں لازماً امام کی اتباع کو مقدم کیا جائے گا۔اور اس اصول کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہونے والا فتو کی ہی صحیح قرار پاتا ہے۔کیونکہ اس میں امام کی اتباع کے اصول کو نماز کی ظاہری اور وقتی ترتیب کے سوال پر مقدم رکھا گیا ہے۔(۲) دوسری دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب ہونے والے فتویٰ کے حق میں اس اصول سے نکلتی ہے کہ اگر اس بات کی اجازت دی جائے کہ امام تو مسجد میں نماز باجماعت پڑھا رہا ہے اور ایک دوسرا شخص پیچھے سے آ کر جماعت سے الگ ہوکر اپنی علیحدہ نماز شروع کر دیتا ہے۔اور مسجد میں یہ نظارہ نظر آنے لگتا ہے کہ مثلاً امام تو جماعت کے ساتھ سجدہ میں ہے۔مگر یہ شخص کھڑے ہو کر ہاتھ باند ھے۔قیام کر رہا ہے تو یہ صورت ملت کے ظاہری اتحاد میں سخت رخنہ پیدا کرنے والی اور دل کی گہرائیوں میں کجی کا راستہ کھولنے والی ہو گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو اتحاد ظاہری کا اس قدر خیال تھا کہ آپ صفوں کی ذراسی بد نظمی کو بھی سخت نا پسند فرماتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ تم جب نماز با جماعت کے لئے کھڑے ہو تو صفوں کی درستی اور صحت کا خاص خیال رکھو۔اور چاہیئے کہ تمہاری یک صورتی اور یک جہتی میں ذرا بھر بھی فرق نہ آوے۔کیونکہ اگر تم نے اس کا خیال نہ کیا تو خدا تمہارے دلوں میں بھی پیدا کر دے گا اتحاد ظاہری اور باطنی کا ایسا دلدادہ نبی اس بات کی کس طرح اجازت دے سکتا ہے کہ ادھر تو امام نما ز کرا رہا ہے اور ادھر ایک شخص جماعت سے الگ ہوکر اپنی علیحدہ نماز پڑھ رہا ہے۔بہر حال اس پہلو سے بھی یہی استدلال ہوتا ہے کہ صورت پیش آمدہ میں امام کی اتباع کا سوال نماز کی ظاہری ترتیب کے سوال پر مقدم ہے۔(۳) تیسری دلیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہونے والے فتویٰ کے حق میں یہ ہے کہ جمع کی صورت کے علاوہ عام باجماعت نماز جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم