مضامین بشیر (جلد 2) — Page 114
مضامین بشیر ۱۱۴ جو جائداد اور مال و دولت کے اصول پر کی جائے۔خصوصاً موجودہ لیبر برطانوی حکومت سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی۔۔۔(۵) جمہوریت کے بنیادی اصول بھی جو دنیا بھر میں مسلم ہیں اس خیال کی پر زور تردید کرتے ہیں کہ مال و دولت کے اصول پر ملکی تقسیم کی بنیاد رکھی جائے۔کیونکہ اس کے یہ معنے بنتے ہیں کہ جائیدادوں کو انسانی جان پر فوقیت حاصل ہے، جو بالبداہت باطل ہے۔(1) انکم ٹیکس اور مال گزاری وغیرہ کا سوال بھی در اصل مال و دولت اور جائیداد کے سوال کی ایک فرع ہے۔اور اس لئے وہ بھی انہی وجوہات کی بناء پر نا قابل توجہ سمجھا جانا چاہئے۔جن کی بناء پر دولت اور جائیداد کا اصول قابل رو خیال سمجھا جاتا ہے۔(۷) اگر ” دوسرے حالات کے مفہوم میں مقدس مقامات اور قومی یادگاروں کا سوال شامل سمجھا جائے تو پھر ضروری ہے کہ اس پہلو کو مد نظر رکھنے سے پہلے اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ کس کس قسم کی قومی یادگاریں یا مقدس مقامات قابل لحاظ سمجھے جائیں گے اور یہ کہ کن کن قسم کے حالات میں ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہوگا۔اور پھر اس اصولی فیصلہ کے بعد اس فیصلہ کو ساری قوموں پر یکساں چسپاں کیا جائے۔(۸) مسلم اور غیر مسلم اکثریت کے ملتے جلتے علاقوں کی تعیین کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسا یونٹ مقرر کیا جائے جس کی بناء پر مسلمان اور ہندو سکھ اور دیگر اقوام کی آبادی کے اعداد و شمار معلوم کر کے مسلم اور غیر مسلم اکثریت کے علیحدہ علیحدہ علاقے معین کئے جاسکیں (۹) یہ کہ بظاہر مندرجہ ذیل یونٹوں میں سے کسی ایک کو یونٹ مقرر کیا جا سکتا ہے :- (۱) گاؤں یعنی ریوینیوا سٹیٹ۔(ب) ذیل۔( ج ) حلقہ قانون گو۔(د) تھانہ۔(ذ) تحصیل (ر) اور ضلع۔ان چھ یونٹوں میں سے غالباً ضلع کا یونٹ خارج از بحث ہے۔کیونکہ ۳ جون کی برطانوی تجویز اسے خود رڈ کرتی ہے۔کیونکہ اسی تجویز میں اضلاع کی عارضی تقسیم کا خاکہ تیار کرنے کے بعد صراحت کی گئی ہے کہ اس عارضی تقسیم کو بعد میں مسلم اور غیر مسلم اکثریت کے ملتے جلتے علاقوں کی تعیین کے نتیجہ