مضامین بشیر (جلد 2) — Page 91
۹۱ مضامین بشیر اول تو سکھ صاحبان ( ہندو اس سوال میں سکھوں کے تابع ہے ) ان اصولوں کے نتائج پر غور کر کے خود بخود پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ ترک کر دیں گے اور اگر وہ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنے مطالبہ پر قائم بھی رہیں گے تو انہیں جلد معلوم ہو جائے گا کہ ان کے ہاتھ میں ایک خالی برتن کے سوا کچھ نہیں ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ سیاست ایک ایسا فن ہے جس میں حق وانصاف کے علاوہ ہوشیاری اور موقع شناسی اور حسنِ تدبیر کی بھی ضرورت ہوا کرتی ہے۔اور بعض اوقات جب کہ کسی قوم کی کورانہ روش براہ راست سمجھوتہ کا دروازہ بند کر دے ، پہلو کی طرف سے ہو کر آنا کامیابی کا رستہ کھول دیتا ہے۔ہماری غرض بہر حال مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت اور ملک کی بہتری ہے اور ہم دوسری قوموں کے ساتھ بھی انصاف کا معاملہ کرنا چاہتے ہیں۔لیکن اگر ایک قوم ضد میں آکر ایک ایسے فیصلہ پر تلی ہوئی ہے، جو نہ ہمارے لئے مفید ہے اور نہ اس کے لئے اور ملک کا بھی اس میں سرا سر نقصان ہے۔تو اس صورت میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس کے پیش کردہ مطالبہ کا تجزیہ کر کے اور اپنے معقول مطالبات کو وسیع صورت دے کر ایسی قوم پر واضح کیا جائے کہ وہ ضد وعناد کی رو میں بہہ کر صرف دوسروں کا ہی نقصان نہیں کر رہی بلکہ خود اپنی تباہی کا بیج بھی بور ہی ہے۔کاش وہ سمجھے ! با لآخر یہ بات قابل ذکر ہے کہ آج کل بعض ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ گزشتہ مردم شماری کے اعداد و شمار درست نہیں۔کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس میں بہت سے فرضی اور جعلی نام داخل ہو گئے ہیں اور اس وجہ سے ممکن ہے کہ جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت دکھائی گئی ہے وہاں حقیقتا ان کی اکثریت نہ ہو اور محض مردم شماری کی غلطی کی وجہ سے ایسا نظر آتا ہو۔مگر یہ اعتراض غلط ہونے کے علاوہ موجودہ بحث کے لحاظ سے بالکل لا تعلق بھی ہے۔اگر بالفرض مردم شماری کے اعداد و شمار میں کوئی غلطی ہے تو ظاہر ہے کہ یہ غلطی مسلمانوں کے لئے خاص نہیں بلکہ ساری قوموں کے لئے یکساں ہے۔بلکہ چونکہ شمار کنندے زیادہ تر ہندو اور سکھ ہوتے ہیں۔کیونکہ ان میں مسلمانوں کی نسبت تعلیم زیادہ عام ہے۔اس لئے لازما اس غلطی یا جعلسازی کا اثر بھی سکھوں اور ہندوؤں کے حق میں ہی زیادہ ہوا ہو گا۔علاوہ ازیں جب کہ ۱۹۴۱ء میں بھی مسلمانوں اور ہندوؤں کی آبادی کی عمومی نسبت قریباً وہی ہے۔جو کہ ۱۹۳۹ء میں تھی تو پھر یہ شبہ کرنا بالکل باطل ہے کہ مسلمانوں نے ۱۹۴۱ء میں جعلسازی کے ذریعہ اپنی آبادی کو بڑھا لیا ہے۔مثلاً اگر لاہور شہر میں ۱۹۳۱ء میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور ۱۹۴۱ء میں بھی اسی سے ملتی جلتی اکثریت ہے۔یا مثلاً اگر امرتسر شہر میں ۱۹۳۱ ء میں ہندو اور سکھ مل کر مسلمانوں سے زیادہ تھے اور ۱۹۴۱ء میں بھی قریباً اسی نسبت سے زیادہ ہیں وغیر ذالک۔تو اس صورت میں یہ دعوی کرنا کہ مسلمانوں کی مردم شماری میں جعلی