مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1004 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1004

مضامین بشیر ۱۰۰۴ مسئلہ تقدیر کے متعلق ایک دوست کا سوال کیا تقدیر مبرم بھی مل سکتی ہے؟ کچھ عرصہ ہوا میرا ایک مضمون مسئلہ تقدیر کے متعلق شائع ہوا تھا اور اس کے کچھ عرصہ بعد اس مضمون کا ایک تتمہ بھی شائع ہوا جو ایک احمدی نوجوان کے سوال کے جواب میں تھا۔اب اسی تعلق میں ماسٹر محمد عبد اللہ صاحب مقرب انگلش ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول سانگلہ ہل کی طرف سے ایک اور سوال موصول ہوا ہے جس کا مختصر سا جواب ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ماسٹر صاحب موصوف لکھنے۔ہیں کہ میں نے اپنے مضمون میں تقدیر کی ایک قسم تقدیر عام یعنی تقدیر معلق بیان کی تھی اور دوسری قسم تقدیر مبرم بیان کی تھی اور تقدیر مبرم کی تعریف میں نے یہ لکھی تھی کہ ایسی تقدیر جو نہ ٹلنے والی ہو۔لیکن مقرب صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی کے تعلق میں ایک جگہ اس پیشگوئی کو تقدیر مبرم لکھا تھا مگر پھر بھی وہ ٹل گئی۔اب بے شک اس تقدیر کے ٹلنے کو سنت اللہ کے مطابق جائز قرار دیا جائے لیکن بہر حال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کبھی کبھی تقدیر مبرم بھی ٹل جایا کرتی ہے۔اس سوال کے جواب میں یا درکھنا چاہئے کہ گو مقرب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تحریر کا حوالہ نہیں دیا جس میں حضور نے محمدی بیگم والی پیشگوئی کو تقدیر مبرم قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ حوالہ کی اصل عبارت اس قسم کی الجھن کے حل کرنے میں بڑی مد ہوسکتی ہے مگر تا ہم میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کیونکہ مجھے بھی یہی یاد پڑتا ہے کہ حضور نے واقعی ایک جگہ محمدی بیگم والی پیشگوئی کو تقدیر مبرم کے طور پر پیش کیا ہے اور خواہ اصل عبارت کی تفصیل کچھ ہو کیونکہ اس وقت وہ میرے سامنے نہیں ہے۔بہر حال اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقدیر مبرم کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس کے نتیجہ میں طبعا وہ سوال پیدا ہوتا ہے جو مقرب صاحب کے دل میں کھٹکا ہے۔اس کے جواب میں پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہئے جس پر غالباً مقرب صاحب نے غور نہیں کیا کہ محمدی بیگم والی پیشگوئی کا مرکزی نقطہ محمدی بیگم کا نکاح نہیں تھا بلکہ بے دین رشتہ داروں کو جو اسلامی تعلیم پر تمسخر اڑاتے اور آیات اللہ کے وجود سے منکر تھے ایک نشان دکھانا اصل مقصد تھا اور پھر یہ پیشگوئی بھی